رات سے نفل روزوں کی نیت کرنے کا کیا حکم ہے؟
تبييت النية في صيام التطوع
رات سے نفل روزوں کی نیت کرنے کا کیا حکم ہے؟
تبييت النية في صيام التطوع
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
نفل روزہ رکھنے والے مسئلہ میں علماء کے دو قول ہیں:
ایک جماعت علماء کی اس بات کی طرف گئی ہے کہ نیت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ رات سے نیت کرے ۔ حدیث حفصہؓ اورعائشہؓ کو دیکھتے ہوئے: (جو رات سے روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ ہی نہیں) اوریہ حدیث ہر روزے کو شامل ہے ۔
اور اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے جو جمہور کا قول بھی ہے کہ نفل روزہ دن میں نیت کرنے سے صحیح ہوجاتا ہے ۔
پھرعائشہؓ اور حفصہؓ کی حدیث کا کیا مطلب ہے ؟ جو حدیث صحیح مسلم میں حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ نبیﷺان کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے پوچھا: (کیا آپ کے پاس کچھ ہے؟) یعنی کھانے کے لئے، دیکھئے یہ وہ ہستی ہے جو بنی آدم کے سردار ہے اگر وہ چاہتے تو وہ پہاڑ کو سونا بنا دیتے اور اپنے قدموں کے نیچے نہریں جاری کروا دیتے، وہ فرما رہے ہیں (کیا آپ کے گھر میں کوئی چیز ہے؟) تو جواب ملا کہ نہیں ۔ تو آپﷺنے فرمایا: (پھر تو میرا روزہ ہے) تو بظاہر حدیث یہ بتا رہی ہے کہ آپ ﷺنے روزے کی نیت اس وقت کی جب کھانا نہ پایا اور یہ دن کا وقت تھا، لہذا یہ اس بات پردلیل ہے کہ دن میں نفل روزے کی نیت کرنا جائز ہے ۔
پھر یہ حدیث مستثنی ہے اس حدیث سے (جو رات سے روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ ہی نہیں) ۔
اورکیا یہ نفل مطلق اور مقید دونوں کو شامل ہے؟ چونکہ نفل کی دو قسمیں ہیں: مطلق اور مقید ۔ مطلق وہ ہوتی ہے جس کے لئے کوئی سبب نہ ہو اور مقید وہ ہوتی ہے کہ جس کی کوئی خاص فضیلت ہو جیسے کہ عا شوراء اور عرفہ اور شوال کے چھ روزے اور پیر اور جمعرات کا روزہ اور اس کے مشابہ ۔ اب کیا یہ مطلق اور مقید دونوں کو شامل ہے؟ توعلماء کے اس میں دو اقوال ہیں: اہل علم میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ مطلق روزے کے سا تھ خاص ہے اور جہاں تک مقید کی بات ہے تو اس خاص فضیلت کو پانے کے لئے ضروری ہے کہ رات سے نیت کرے ۔ لہذا جوشخص عاشوراء کی فضیلت چاہتا ہو یا شوال کے چھ روزوں کی فضیلت پانے کی خواہش ہو تو اس کو چاہیئے کہ رات سے نیت کرے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا کرنا اچھا اور بہتر ہے لیکن اگر کوئی شخص آج کل صبح دیر سے جاگے یا ظہر سے پہلے آنکھ کھلے اور وہ یہ کہے کہ میرا ایک دن کا یا دو دن کے روزے ان چھ میں سے باقی ہے اور آج میں روزے کی نیت کرتا ہوں، تو ظاہر اور اقرب اور جس پر جمہور علماء ہیں، یہی ہے کہ اس کی دن میں نیت کرنا صحیح ہوگی ۔