اگر کوئی رمضان کی قضاء اتنی موخر کرے کہ دوسرا رمضان آجائے تو اس کے ذمہ کیا واجب ہے؟
أخر قضاء رمضان حتى أتى رمضان الآخر
اگر کوئی رمضان کی قضاء اتنی موخر کرے کہ دوسرا رمضان آجائے تو اس کے ذمہ کیا واجب ہے؟
أخر قضاء رمضان حتى أتى رمضان الآخر
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
جمہورعلماء کا مذہب کہ جو رمضان کی قضاء کو موخر کرے، آنے والے رمضان کے بعد تک تو اس پر قضاء کے ساتھ فدیہ بھی واجب ہے اور یہ بات مستند ہے جیسا کہ ابو ہریرۃؓ سے نقل ہے اور جمہور فقہاء بھی اسی پر ہے کہ یہ واجب ہے ۔ اور اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک یہ مستحب ہے ۔
بہرحال خواہ واجب ہو یہ یا سنت، اس حکم میں کافی گنجائش ہے ۔ اور دو قولوں میں سے زیادہ اقرب الی صواب یہ ہے کہ صرف قضاء ہی واجب ہے اور جہاں تک کھانا کھلانے کی بات ہے تو اس کو بعض صحابہؓ نے مستحب قرار دیا ہے ۔ لہذا اگر کوئی ایسا کرلے تو بہتر ہے اور اگر نہ کرے تو اس کے لئے قضاء ہی کافی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (تم میں سے اگر کوئیمریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ اتنی ہی تعداد پوری کرلے باقی دنوں میں) [البقرۃ:۱۸۴] اور اس کے علاوہ کچھ واجب نہیں