روزہ کے ساتھ مریض کے کیا احوال ہیں؟
ما هي أحوال المريض مع الصيام؟
روزہ کے ساتھ مریض کے کیا احوال ہیں؟
ما هي أحوال المريض مع الصيام؟
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
جوشخص بیمار ہو تو اس کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگرتم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے‘‘ ۔ [البقرۃ:۱۸۶]
اسی طرح اگلی آیت میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے‘‘ ۔ [البقرۃ :۱۸۵]
لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بیمار کو روزہ نہ رکھنے میں رخصت عطاء فرمائی ہے اور اس کے لئے یہ طریقہ مشروع قراردیا ہے کہ وہ اس روزہ کی قضاء کسی اور دن کرلے ۔ پس اگر آپ کو لاحق شدہ بیماری ایسی ہو جو روزہ رکھنے سے مزید بڑھتی ہو یا روزہ سے آپ کو مزید مشقت لاحق ہوتی ہو یا پھر روزہ سے بیماری کی مدت بڑھنے کا اندیشہ ہو یعنی وہ شفاء کو مؤخر کرنے کا سبب بنتا ہو تو ان تین وجوہات کی بناء پر روزہ نہ رکھنا مباح و جائز ہے ۔ اس لئے کہ یہ تمام عذر روزہ نہ رکھنے کو مباح کرتے ہیں ، اور اگر طبی رپورٹس اور موجودہ حالت کے مطابق اگر وہ بیماری دائمی ہو اور شفاء کی کوئی امید نہ بر آتی ہو تو اس صورت میں وہ ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلائے ۔
اور اگر وہ سردی کے موسم میں روزہ رکھنے پر قدرت رکھتا ہے تو پھر ہم اس کو یہی کہیں گے کہ ابھی آپ فی الحال گرمی کے روزے نہ رکھیں جب سردی کا موسم آجائے تو اس وقت روزہ کی قضاء کرلیں