اگر میت پر روز ے ثابت ہو جائیں تو کیا میت کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھ سکتے ہیں یا میت کے رشتہ دار آپس میں وہ روزے تقسیم کرسکتے ہیں؟
ثبت على الميت الصوم فهل يصوم عنه وليه أو يتقاسم أقاربه الصيام
اگر میت پر روز ے ثابت ہو جائیں تو کیا میت کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھ سکتے ہیں یا میت کے رشتہ دار آپس میں وہ روزے تقسیم کرسکتے ہیں؟
ثبت على الميت الصوم فهل يصوم عنه وليه أو يتقاسم أقاربه الصيام
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الٰہی آ پ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
ولی ہی رشتہ دار ہوتاہے اور یہ بیٹا، بھائی، بہن اور باپ کو شامل ہے ، اور یہ ممکن ہے کہ وہ آپس میں روزے تقسیم کریں ، سوائے ان روزوں کے جن میں پے درپے روزے رکھنے ہوں جیسا کہ دو ماہ کے لگاتار روزے ، اس صورت میں وہ آپس میں روزے تقسیم نہیں کرسکتے ، اس لئے کہ اس طرح کرنے سے وہ تتابع فوت ہوجائے گی ، اور اگر رمضان یا اس طرح کے اور روزے ہوں تو پھر آپس میں دنوں کو تقسیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
اور اہلِ علم کی ایک جماعت کا تتابع کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر ایک شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے اور پھر دوسرا شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے تو اس طرح بھی جائز ہے اس لئے کہ دوماہ کے روزے لگاتار دو شخصوں سے حاصل ہوگئے ۔