السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 21 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 21 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا حکم

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 485

اگر میت پر روز ے ثابت ہو جائیں تو کیا میت کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھ سکتے ہیں یا میت کے رشتہ دار آپس میں وہ روزے تقسیم کرسکتے ہیں؟

ثبت على الميت الصوم فهل يصوم عنه وليه أو يتقاسم أقاربه الصيام

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آ پ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

ولی ہی رشتہ دار ہوتاہے اور یہ بیٹا، بھائی، بہن اور باپ کو شامل ہے ، اور یہ ممکن ہے کہ وہ آپس میں روزے تقسیم کریں ، سوائے ان روزوں کے جن میں پے درپے روزے رکھنے ہوں جیسا کہ دو ماہ کے لگاتار روزے ، اس صورت میں وہ آپس میں روزے تقسیم نہیں کرسکتے ، اس لئے کہ اس طرح کرنے سے وہ تتابع فوت ہوجائے گی ، اور اگر رمضان یا اس طرح کے اور روزے ہوں تو پھر آپس میں دنوں کو تقسیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

اور اہلِ علم کی ایک جماعت کا تتابع کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر ایک شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے اور پھر دوسرا شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے تو اس طرح بھی جائز ہے اس لئے کہ دوماہ کے روزے لگاتار دو شخصوں سے حاصل ہوگئے ۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف