الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 7 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 28 ربيع آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 7 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

کیا مذی کے نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

کیا مذی کے نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 3845

کیا مذی کے نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

هل نزول المذي يفسد الصوم؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

سب سے پہلے تو یہ کہ مذی ہوتی کیا ہے؟ مذی وہ لیس دار ، شفاف سائل مادہ ہے جو شہوت کے جوش کے وقت نکلتا ہے اور کیا یہ مادہ روزہ توڑ دیتا ہے تو اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جی ہاں مذی کے نکلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

صحیح یہ ہے کی مذی کا نکلنا روزے کو نہیں توڑتا ، روزہ دار کو چاہیئے کہ اس حد تک نہ ہی پہنچے ، لیکن کبھی کبھار مذی بغیر کسی ضبط کے ہلکی سی شہوت جو کہ آواز کے سننے سے ہو یا کسی اور وجہ سے یا مصافحہ کرنے سے، ان وجوہات سے ہی مذی نکل جاتی ہے لہذا انسان کو چاہئیے کہ ان چیزوں سے دور ہی رہے جو شہوت کو ہوا دیں، لیکن اگر کچھ ایسا ہو بھی جائے اور مذی کا خروج ہو تو اس کا اس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، روزہ صحیح ہے، اگر مذی سے روزہ ٹوٹتا ہوتا تو نبیؐ ضرور بیان فرما دیتے جبکہ لوگوں کی اس امر میں بہت زیادہ حاجت بھی تھی جو کہ باربار ان کو آن لیتی تھی۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف