الثلاثاء 26 ذو الحجة 1442 هـ
آخر تحديث منذ 7 ساعة 28 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 26 ذو الحجة 1442 هـ آخر تحديث منذ 7 ساعة 28 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

دوران روزہ بیوی کے ساتھ مداعبت(ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ) کرنے کا کیا حکم ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

دوران روزہ بیوی کے ساتھ مداعبت(ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ) کرنے کا کیا حکم ہے؟

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 866

دوران روزہ بیوی کے ساتھ مداعبت(ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ) کرنے کا کیا حکم ہے؟

مداعبة الزوجة أثناء الصوم؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

مداعبت درحقیقت بڑا ہی مہمل اور وسیع المفہوم کلمہ ہے، بعض لوگوں کے ہاں اس کا مطلب جماع تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر اس سے مقصود بوسہ لینا یا ساتھ لگنے کی حد تک ہو جس سے انزال نہ ہو اور نہ ہی جماع کا حصول ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ صحیحین میں حضرت عائشہؓ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ((نبیؐ مباشرت کیا کرتے تھے جبکہ وہ روزہ سے ہوتے)) لیکن عائشہؓ نے خود ہی ایک تنبیہ فرما دی کہ ایک چیز کو مد نظر رکھنا ضروری ہے، فرماتی ہیں:((لیکن وہ تم میں سب سے زیادہ اپنی خواہش پر کنٹرول رکھنے والے تھے)) تو نبیؐ اپنے نفس کی حاجت میں اتنے کنٹرول میں رہتے کہ اللہ تعالی نے جس کو حرام کیا ہے اس کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں، اللہ نے ان کو بچایا اور وہ بالکل معصوم تھے۔

جو اپنے نفس کی ضمانت نہیں دے سکتا جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے، بہت سے لوگ سؤال کرتے ہیں اور کہتے ہیں : واللہ میں نے تو صرف مداعبت کی تھی مگر انزال ہو گیا، اس حال میں آپ کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور آپ معصیت کے مرتکب ہوں گے اور یہ خطرے سے خالی نہیں ہے، لہذا اگر آپ کو اپنے آپ پر اطمئنان نہ ہو اور اس بات کا خوف ہو کہ حد سے تجاوز ہو جائے گا اور انزال کر بیٹھیں گے تو اس سے دور ہی رہیں۔

اور جہاں تک ایسے شخص کا تعلق ہے جو یہ کہتا ہے: واللہ میں اپنے آپ کو جانتا ہوں اور مجھے خوب معلوم ہے کہ اس ہلکی پھلکی مداعبت سے اور چھونے سے مجھے انزال نہیں ہو گا تو کوئی حرج نہیں، روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

اور مداعبت اور جماع میں جو فرق ہے وہ میں نے کہا ہے کہ بعض لوگ جماع کو بھی مداعبت ہی کہہ جاتے ہیں، جبکہ حقیقت میں جماع یہ ہے کہ آدمی پوری طرح سے اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستر ہو جیسا کہ روزہ کے علاوہ عام حالت میں ہوتا ہے

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف