السبت 19 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 15 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 19 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 15 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

جو شخص فجر کی اذان کے دوران کھاتا یا پیتا رہا ہو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

جو شخص فجر کی اذان کے دوران کھاتا یا پیتا رہا ہو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 1094

جو شخص اذان کے دوران بھی کھاتا یا پیتا رہا ہو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ما حكم صيام من أكل أو شرب أثناء أذان الفجر؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اکژر کیلنڈرز میں اذان کچھ پہلے ہوتی ہے اور کم از کم مانچ منٹ پہلے ہوتی ہے، اس وجہ سے کھانے والے کا کھانا اگر اذان کے وقت میں ہو اور اذان کا وقت مذکورہ کیلنڈر کے مطابق ہو تو روزے میں کوئی اشکال نہیں رہتا کیونکہ فجر کا وقت ابھی واضح نہیں ہوا، اور اللہ تعالی فرماتے ہیں: ((اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کر تم پر واضح نہ ہو جائے)) [البقرہ:۱۸۷] اور نبیؐ کا فرمان ہے: ((بلال کی اذان تمہیں (کھانے پینے سے) نہ روکے کیونکہ وہ رات میں اذان دیتا ہے، لیکن ابن ام مکتوم کی اذان کا اعتبار کیا کرو))، اور حدیث صحیح میں یہ زیادتی بھی آئی ہے فرمایا: ((اور وہ تب تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ نہ کہا جاتا: صبح ہو گئی، صبح ہو گئی))، یعنی فجر طلوع ہو گئی۔

اور اگر مؤذن وقت پر اذان دیتا ہو تو اس صورت میں جائز نہیں کہ انسان کچھ کھائے پئے، اگرچہ اس کے ہاتھ میں ہی ہو، ((اور کھاؤ پؤ یہاں تک کہ واضح نہ ہو جائے)) اور اب مؤذن کے وقت پر اذان دینے سے واضح ہو گیا ہے۔ اگر مؤذن کیلنڈر کے مطابق اذان دیتا ہو جیسا کہ آجکل عام طور پر دنیا میں اکثر ممالک میں رائج ہے تو کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن پھر بھی احتیاط اس میں ہے کہ اس سے اجتناب ہی کرے، اگر پھر بھی کھا لیا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف