الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 17 ساعة 14 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 17 ساعة 14 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

رمضان میں دن کے وقت زنا کرنے کا کیا حکم ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

رمضان میں دن کے وقت زنا کرنے کا کیا حکم ہے؟

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 1331

رمضان میں دن کے وقت زنا کرنے کا کیا حکم ہے؟

ما حكم الزنا في نهار رمضان؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

رمضان میں زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور بہت ہی بڑے درجے کا گناہ ہے، چاہے یہ رمضان میں دن کے وقت ہو یا رات میں، اور خاص طور پر رمضان میں اس گناہ کی قباحت بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ رمضان ایسے لمحات کا نام ہے جس میں نیکیاں بھی بہت بڑھا دی جاتی ہیں اور برائیاں بھی، لہذا ایمان والے کو چاہئیے کہ اپنے آپ کو برائی ، اور ہلاکت کے راستوں سے بچائے۔

اور جہاں تک روزے کی حالت میں زنا کا تعلق ہے تو اس میں جماع جو کہ عام حالات میں حلال ہے وہ ہلاکت ہے تو زنا کا آپ خود ہی اندازہ کر لیں، یہ تو غیر رمضان کی نسبت بہت زیادہ ھلاکت والا، بڑے شدید فساد والا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ جو اس میں پڑ گیا اور اس سے یہ گناہ سر زد ہو گیا اسے معاف فرمائے، میری ایسے شخص کیلئے یہ نصیحت ہے کہ فوراََ توبہ کرے ، رجوع الی اللہ کرے، کیونکہ نبیؐ نے فرمایا ہے جیسا کی صحیحین میں ابو ہریرہؓ کی حدیث ہے: ((زنا کرنے والا ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا)) تو زنا ایسا عمل ہے جس سے ایمان میں خلل آجاتا ہے اور یہ انسان کو بڑی ہی ہلاکت اور طغیانی میں ڈال دیتا ہے، تو مؤمن پر واجب ہے کہ جلد سے جلد توبہ کرے استغفار کرے اور اللہ تعالی کے حقوق ادا کرے اور نیک اعمال کرے، اللہ تعالی فرماتے ہیں: ((دن کے دونوں اطراف میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں))[ہود:۱۱۴

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف