الاربعاء 14 صفر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 35 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 14 صفر 1442 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 35 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

بغیر کسی عذر کے روزوں کی قضاء میں سستی کرنا

مشاركة هذه الفقرة

بغیر کسی عذر کے روزوں کی قضاء میں سستی کرنا

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 370

بغیر کسی عذر کے روزوں کی قضاء میں سستی کرنے کا کیا حکم ہے؟

تكاسل عن قضاء الصيام بغير عذر

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

ایسی عورت پر واجب تو یہ ہے کہ جو اس کے روزے رہ گئے ان کی قضاء کرے، اگر اس نے ایک سال روزے نہ رکھے ہوں، یعنی رمضان تو آیا مگر اس نے روزے نہیں رکھے تو جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس پر اب روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ کھانا کھلانا بھی واجب ہے کیونکہ صحابہؓ سے ایسے ہی مروی ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کا کہنا یہ ہے کہ اب صرف روزے قضاء کرنا ہی واجب ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسی کو واجب کیا ہے، فرمان باری تعالی ہے: ((پھر بھی گر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے)) [البقرہ:۱۸۴]  یہاں اللہ نے اطعام کا ذکر نہیں کیا لہذا اطعام واجب نہیں ہے، اور جو صحابہ کے بارے میں مروی ہے وہ استحباب پر محمول ہے نہ کہ وجوب پر، اور یہی امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ اس پر صرف روزے ہی واجب ہیں زیادہ اقرب اور صحیح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم۔

لہذا یہ عورت روزے قضاء کرے گی اور اگر کھانا بھی کھلانا چاہے تو بھی اچھی بات ہے لیکن یہ لازم اور واجب نہیں

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف