الخميس 10 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 7 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 10 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 7 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

معصیت کی وجہ سے روزے کی صحت میں شک

مشاركة هذه الفقرة

معصیت کی وجہ سے روزے کی صحت میں شک

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 406

کیا معصیت کی وجہ سے روزے کی صحت میں شک روزے پر اثر انداز ہوتا ہے؟

الشك في صحة الصوم بسبب المعاصي

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

سؤال کرے والے کے بارے میں مجھے کچھ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ عبادات کے صحیح ہونے میں اسے وساوس لاحق رہتے ہیں، تو میں کہوں گا کہ اطمئنان رکھیں ، عبادت وسوسوں اور قلق وغیرہ کا محل نہیں ہے بلکہ یہ تو دل کے سکون اور تردد وشبہات دور کرے کا ذریعہ ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں: ((اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا)) [النساء:۱۴۷]  لہذا عبادت اس طرح سے کریں کہ آپ کو پورا اطمئنان حاصل ہو اور شیطان کو اس کا موقع نہ دیں کہ وہ آپ سے عبادت کی لذت چھین لے اور ان وساوس کے ذریعے آپ کو اس کے مزے سے محروم کر دے۔

اور جہاں تک روزے کے ٹھیک ہونے کی بات ہے تو اصل روزے کی صحت ہی ہے، ہمیں چاہئیے کہ جو بھی اس اصل کے بارے میں ہمیں شک میں ڈالے اس سے بچنے کی کوشش کریں، جو کچھ بھی آپ کے ذہن میں آ رہا ہے کہ آپ کا روزہ ٹھیک نہیں، یا اس میں خلل ہے یہ سب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس سے اس طرح سے بچیں کہ یہ یقین رکھیں کہ روزے میں اصل اس کا صحیح ہونا ہے، اور یہ تب تک نہیں ٹوٹتا جب تک کوئی واضح دلیل نہ قائم ہو جائے جیسے کھانا پینا یا جماع وغیرہ۔

جہاں تک مشتبہ معاملات کا تعلق ہے کیا یہ روزے پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ تو اس بارے میں یہ عرض ہے کہ روزے سے مقصود نفس کا طہارت ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں: ((اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے والوں پر فرض کئے گے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کرو)) [البقرہ:۱۸۳] اور آپؐ کا فرمان ہے: ((روزہ ڈھال ہے))، ایک اور حدیث مبارک ہے: ((اگر تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ لڑائی جھگڑا نہ کرے، گناہ (فسق) نہ کرے اور آوازیں نہ کسے اور اگر کوئی اسی گالی بھی دے تو یہ کہہ دے: میرا روزہ ہے))، اور آپؐ فرماتے ہیں جیسا کہ بخاری میں ابو ہریرہؓ کی روایت میں ہے: ((جس نے جھوٹ کہنا اور اس پر عمل کرنا نا چھوڑا تو اللہ کو اس بات کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے))۔

تو یہ سب مذکورہ اشیاء ہمیں اس بات کی خبر دیتی ہیں کہ روزے سے مقصود معاصی اور گناہوں سے نفس کو پاک کرنا ہے، لہذا فرد کو چاہئیے کہ ظاہری گناہوں سے بچے ایسے گناہ جو بالکل واضح ہوں، پھر دوسرا مرتبہ ہے: مشتبہ اشیاء کا ((جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کر لیا))۔ تو کیا کوئی شخص اگر محرمات یا شبہات میں پڑ جائے اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ جواب یہ ہے کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا، تو کیا اس کے اجر میں کمی کی جائے گی؟ جی ہاں، اس کے اجر میں کمی کی جائے گی اگر معصیت واقعی معصیت ہو، ہاں اگر مشتبہ ہو تو اس سے روزے کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی مگر اس صورت میں کہ اس شخص کا میلان خود اس طرف ہو کہ یہ چیز ان شبہات میں سے ہے جن سے بچنا چاہئیے اور وہ نہیں بچا

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف