×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / ذوالحجہ کے پہلے دس دن کے روزے

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

محترم جناب! میں پورے دس دن کے روزے رکھ لیتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے؟ میں یہ اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ میں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہتا جو آپؐ کے سنت کے مطابق نہ ہو مگر میں یہ دس دن اس لئے روزہ رکھتا ہوں تا کہ زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کر سکوں، تو کیا یہ جائز ہے؟ صيام العشرة أيام الأول من شهر ذي الحجة

المشاهدات:1961

محترم جناب! میں پورے دس دن کے روزے رکھ لیتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے؟ میں یہ اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ میں کچھ ایسا نہیں کرنا چاہتا جو آپؐ کے سنت کے مطابق نہ ہو مگر میں یہ دس دن اس لئے روزہ رکھتا ہوں تا کہ زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کر سکوں، تو کیا یہ جائز ہے؟

صيام العشرة أيام الأول من شهر ذي الحجة

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

عید کے دن کا روزہ جائز نہیں کیونکہ نبیؐ نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے، اور جو باقی نو روزے ہیں تو ان کو آپؐ نے پسند فرمایا جیسا کہ صحیح مسلم میں ابو قتادہؓ کی روایت ہے کہ نبیؐ نے عرفہ کے روز کے روزے کے بارے میں فرمایا: ((میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ یہ میرے ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے روزوں کے برابر ہو))۔

جہاں تک ان دس دنوں کے باقی روزوں کی بات ہے تو اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، جمہور کا کہنا ہے کہ یہ روزے بھی مشروع ہیں جو کہ آپؐ کے قول کے عموم میں داخل ہوتے ہیں ((کوئی بھی دن ایسے نہیں جن میں اللہ کو نیک عمل اتنا پسند ہو جتنا ان دس دنوں میں پسند ہے)) صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول، اللہ کے راستے کا جہاد بھی نہیں؟، رسول اللہؐ نے فرمایا: ((اللہ کے راستے کا جہاد بھی نہیں، مگر وہ آدمی جو خود اپنے مال سے نکلا ہو اور کچھ لے کر واپس نہ آیا ہو))، تو روزہ بغیر کسی اختلاف کے نیک عمل ہے۔

مسلم نے حدیث ذکر کی ہے (۱۱۷۶) اعمش عن ابراہیم عن اسود عن عائشہؓ کے طریق سے کہ نبینے ان دس دنوں کے روزے نہیں رکھے،  اور ترمذی کی روایت (۷۵۶) میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں نے نبیؐ کو کبھی بھی دس دنوں کا روزہ رکھتے نہیں دیکھا، اور ان کی دس دنوں سے مراد ذوالحجہ کے پہلے نو دن ہیں، اور ان دنوں کے روزے رکھنے کا ثبوت بھی وارد ہوا ہے حضرت جابر ؓ کی روایت سے جو کہ ابو داؤود (۴۴۳۷) نسائی (۳۳۷۲) اور احمد (۲۱۸۲۹) نے حر بن صیاح عن ہنیدہ بنت خالد عن امرأتہ عن بعض ازواج النبی کے طریق سے ذکر کی ہے: نبیذوالحجہ کے نو دنوں کے روزے رکھتے تھے، اس حدیث کو اکثر علماء نے ضعیف قرار دیا ہے، لہذا ان روزوں کی مشروعیت پر ابن عباس کی حدیث بطور دلیل قائم ہو گی، اور یہ حدیث حضرت عائشہؓ کی حدیث سے معارض نہیں کیونکہ عائشہؓ کی حدیث یہ بتا رہی ہے کہ انہوں نے روزے نہیں رکھے، جبکہ یہ حدیث آپ کے فعل کے بارے میں خبر دے رہی ہے، اور قول دلالت کرنے میں فعل سے زیادہ قوی ہوتا ہے، اور یہی جمہور علماء کا کہنا ہے


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات130217 )
6. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات64679 )
7. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات64526 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات56791 )
12. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات55810 )
13. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات54638 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات51865 )
15. حكم استعمال الفكس للصائم ( عدد المشاهدات46222 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف