حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
عید کے دن کا روزہ جائز نہیں کیونکہ نبیؐ نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے، اور جو باقی نو روزے ہیں تو ان کو آپؐ نے پسند فرمایا جیسا کہ صحیح مسلم میں ابو قتادہؓ کی روایت ہے کہ نبیؐ نے عرفہ کے روز کے روزے کے بارے میں فرمایا: ((میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ یہ میرے ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے روزوں کے برابر ہو))۔
جہاں تک ان دس دنوں کے باقی روزوں کی بات ہے تو اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، جمہور کا کہنا ہے کہ یہ روزے بھی مشروع ہیں جو کہ آپؐ کے قول کے عموم میں داخل ہوتے ہیں ((کوئی بھی دن ایسے نہیں جن میں اللہ کو نیک عمل اتنا پسند ہو جتنا ان دس دنوں میں پسند ہے)) صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول، اللہ کے راستے کا جہاد بھی نہیں؟، رسول اللہؐ نے فرمایا: ((اللہ کے راستے کا جہاد بھی نہیں، مگر وہ آدمی جو خود اپنے مال سے نکلا ہو اور کچھ لے کر واپس نہ آیا ہو))، تو روزہ بغیر کسی اختلاف کے نیک عمل ہے۔
مسلم نے حدیث ذکر کی ہے (۱۱۷۶) اعمش عن ابراہیم عن اسود عن عائشہؓ کے طریق سے کہ نبیﷺنے ان دس دنوں کے روزے نہیں رکھے، اور ترمذی کی روایت (۷۵۶) میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں نے نبیؐ کو کبھی بھی دس دنوں کا روزہ رکھتے نہیں دیکھا، اور ان کی دس دنوں سے مراد ذوالحجہ کے پہلے نو دن ہیں، اور ان دنوں کے روزے رکھنے کا ثبوت بھی وارد ہوا ہے حضرت جابر ؓ کی روایت سے جو کہ ابو داؤود (۴۴۳۷) نسائی (۳۳۷۲) اور احمد (۲۱۸۲۹) نے حر بن صیاح عن ہنیدہ بنت خالد عن امرأتہ عن بعض ازواج النبی کے طریق سے ذکر کی ہے: نبیﷺذوالحجہ کے نو دنوں کے روزے رکھتے تھے، اس حدیث کو اکثر علماء نے ضعیف قرار دیا ہے، لہذا ان روزوں کی مشروعیت پر ابن عباس کی حدیث بطور دلیل قائم ہو گی، اور یہ حدیث حضرت عائشہؓ کی حدیث سے معارض نہیں کیونکہ عائشہؓ کی حدیث یہ بتا رہی ہے کہ انہوں نے روزے نہیں رکھے، جبکہ یہ حدیث آپ کے فعل کے بارے میں خبر دے رہی ہے، اور قول دلالت کرنے میں فعل سے زیادہ قوی ہوتا ہے، اور یہی جمہور علماء کا کہنا ہے