کیا میت کی طرف سے قضاء روزے رکھنا جائز ہے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہو گا، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ میت نے رمضان کے روزے قصداََ چھوڑے تھے اور کتنے روزے چھوڑے اس کی کوئی تعیین نہیں ، اور اب وہ اللہ کے پاس جا چکا ہے؟
قضاء الصيام عن الميت
کیا میت کی طرف سے قضاء روزے رکھنا جائز ہے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہو گا، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ میت نے رمضان کے روزے قصداََ چھوڑے تھے اور کتنے روزے چھوڑے اس کی کوئی تعیین نہیں ، اور اب وہ اللہ کے پاس جا چکا ہے؟
قضاء الصيام عن الميت
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
بخاری (۱۹۵۲) اور مسلم (۱۱۴۷) میں عروہؒ کے طریق سے مروی ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، نبیؐ نے فرمایا: ((جو اس حالت میں مر گیا کہ اس کے ذمہ میں روزے (قضاء کرنا واجب) تھے، تو اس کی طرف سے اس کا ولی (وارث) روزے رکھے))، اگر تو میت کو اپنے ذمہ واجب روزے رکھنے کی فرصت ملی لیکن اس نے نہیں رکھے تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اب واجب یہ ہے کہ اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس صورت میں بھی مشروع یہی ہے کہ میت کی طرف سے روزے رکھے، یہ قول طاووس، حسن، زہری، قتادہ، ابو ثور اور داؤد کا ہے، امام شافعی کا قول قدیم بھی یہی ہے، بعض حنابلہ کا بھی یہی کہنا ہے، اور یہی صحیح ہے جس پر عائشہؓ کی حدیث اور دیگر صحیح احدیث دلالت کرتی ہیں، واللہ اعلم۔