الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 8 ساعة 53 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 8 ساعة 53 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

میت کی طرف سے قضاء روزے رکھنے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

میت کی طرف سے قضاء روزے رکھنے کا حکم

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 335

کیا میت کی طرف سے قضاء روزے رکھنا جائز ہے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہو گا، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ میت نے رمضان کے روزے قصداََ چھوڑے تھے اور کتنے روزے چھوڑے اس کی کوئی تعیین نہیں ، اور اب وہ اللہ کے پاس جا چکا ہے؟

قضاء الصيام عن الميت

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

بخاری (۱۹۵۲) اور مسلم (۱۱۴۷) میں عروہؒ کے طریق سے مروی ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، نبیؐ نے فرمایا: ((جو اس حالت میں مر گیا کہ اس کے ذمہ میں روزے (قضاء کرنا واجب) تھے، تو اس کی طرف سے اس کا ولی (وارث) روزے رکھے))، اگر تو میت کو اپنے ذمہ واجب روزے رکھنے کی فرصت ملی لیکن اس نے نہیں رکھے تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اب واجب یہ ہے کہ اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس صورت میں بھی مشروع یہی ہے کہ میت کی طرف سے روزے رکھے، یہ قول طاووس، حسن، زہری، قتادہ، ابو ثور اور داؤد کا ہے، امام شافعی کا قول قدیم بھی یہی ہے، بعض حنابلہ کا بھی یہی کہنا ہے، اور یہی صحیح ہے جس پر عائشہؓ کی حدیث اور دیگر صحیح احدیث دلالت کرتی ہیں، واللہ اعلم۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف