اگر رمضان کے چاند کی رؤیت میں اختلاف ہو جائے تو ہم کس کے ساتھ روزہ رکھیں؟
رؤية هلال شهر رمضان
اگر رمضان کے چاند کی رؤیت میں اختلاف ہو جائے تو ہم کس کے ساتھ روزہ رکھیں؟
رؤية هلال شهر رمضان
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
واجب یہی ہے کہ آپ اپنے ملک والوں کی اتباع کریں، سنن ترمذی (۶۹۷) میں ابوہریرہؓ کی حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ((روزہ اسی دن ہے جس دن تم سب روزہ رکھو، فطر (عید الفطر) اسی دن ہے جس دن تم سب عید الفطر مناؤ، اور عید الاضحی اسی دن ہے جس دن تم سب عید الاضحی مناؤ)) امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ روزہ اور عید الفطر اکثریت کے ساتھ (اکثریت کی رائے کے مطابق) ہو گی۔ حضرت عائشہؓ کی حدیث میں بھی آیا ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ((روزہ اس دن ہے جب لوگ روزہ رکھیں، اور عید الفطر دن ہے جس دن لوگ عید الفطر منائیں)) تو اس بنیاد پے میری یہ رائے ہے کہ جس شخص نے اپنے ملک کے لوگوں کے عمل کے مطابق روزہ رکھا یا عید کی تو اس پر کسی قسم کی قضاء واجب نہیں ہے۔