الاثنين 9 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 5 ساعة 29 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 9 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 5 ساعة 29 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

رمضان کے مہینے کا چاند دیکھنا

مشاركة هذه الفقرة

رمضان کے مہینے کا چاند دیکھنا

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 983

اگر رمضان کے چاند کی رؤیت میں اختلاف ہو جائے تو ہم کس کے ساتھ روزہ رکھیں؟

رؤية هلال شهر رمضان

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

واجب یہی ہے کہ آپ اپنے ملک والوں کی اتباع کریں، سنن ترمذی (۶۹۷) میں ابوہریرہؓ کی حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ((روزہ اسی دن ہے جس دن تم سب روزہ رکھو، فطر (عید الفطر) اسی دن ہے جس دن تم سب عید الفطر مناؤ، اور عید الاضحی اسی دن ہے جس دن تم سب عید الاضحی مناؤ)) امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ روزہ اور عید الفطر اکثریت کے ساتھ (اکثریت کی رائے کے مطابق) ہو گی۔ حضرت عائشہؓ کی حدیث میں بھی آیا ہے کہ رسول اللہنے فرمایا: ((روزہ اس دن ہے جب لوگ روزہ رکھیں، اور عید الفطر دن ہے جس دن لوگ عید الفطر منائیں)) تو اس بنیاد پے میری یہ رائے ہے کہ جس شخص نے اپنے ملک کے لوگوں کے عمل کے مطابق روزہ رکھا یا عید کی تو اس پر کسی قسم کی قضاء واجب نہیں ہے۔

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف