الاربعاء 21 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 18 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 21 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 18 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

میرے شوہر نے میرے ساتھ رمضان میں دن کے وقت جماع کیا تو کیا میرے اوپر کفارہ آئے گا؟

مشاركة هذه الفقرة

میرے شوہر نے میرے ساتھ رمضان میں دن کے وقت جماع کیا تو کیا میرے اوپر کفارہ آئے گا؟

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 540

میرے شوہر نے میرے ساتھ رمضان میں دن کے وقت جماع کیا جبکہ میں بھی رضا مند تھی تو کیا میرے اوپر کفارہ آئے گا؟

جامعني في نهار رمضان فهل عليّ كفارة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

وہ عورت جس کے ساتھ اس کا شوہررمضان میں روزے کی حالت میں جماع کرے اور وہ رضامند ہو،تو اس بارے میں علماء کے دو قول ہیں:

پہلا قول: اس پر بھی کفارہ ایسے ہی واجب ہے جیسے اس کے شوہر پر واجب ہے کیونکہ اصل تو یہ ہے کہ عورتیں (احکام کے اعتبار سے) مردوں کی مانند ہیں جب تک کوئی دلیل نہ آجائے جس سے تخصیص ہوتی ہو، آپ نے بھی اس آدمی کو کہا جس نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ جماع کیا جیسا کہ بخاری اور مسلم کی روایت جو ابو ہریرہؓ سے مروی ہے اس میں مذکور ہے:((کیا تمہارے پاس غلام آزاد کرنے کیلئے مال ہے؟ کہنے لگا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا تم دو مہینے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ کہنے لگا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ کہنے لگا: نہیں، پھر آپ تشریف فرما ہوئے تو کوئی شخص ایک پیالا لے کر آیا جس میں کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: یہ صدقہ کر دو، تو وہ شخص کہنے لگا: ہم سے زیادہ فقیر کون ہو گا جس کو ہم صدقہ دیں؟ اس شہر میں کوئی گھر بھی ہم سے زیادہ ضرورت مند نہیں ہے، تو نبی ہنسنے لگے حتی کہ آپ کے دانت نظر آنے لگے پھر فرمایا: جاؤ اور اپنی بیوی کو کھلا دو))۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس عورت نے بھی جماع کر کے رمضان کے مہینے کا احترام کو ٹھیس پہنچائی ہے اور رمضان کے روزہ کا بھی لحاظ نہیں رکھا تو اس پر کفارہ واجب ہو گا جیسے آدمی پر واجب ہوتا ہے۔ یہی قول جمہور علماء کا ہے جن میں احناف، مالکیہ، حنابلہ شامل ہیں اور امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے۔

دوسرا قول: یہ ہے کہ اس عورت پر کفارہ نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ نے اس آدمی کی بیوی پر کفارہ واجب نہیں کیا جس نے آکر کہا تھا کہ میں ہلاک ہو گیا، اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ وہ راضی ہو۔ امام احمدؒ سے پوچھا گیا اس شخص کے بارے میں جس نے رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ روزے کی حالت میں جماع کیا ہو کیا اس کی بیوی پر بھی کفارہ واجب ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہم نے ایسا کچھ نہیں سن رکھا کہ عورت پر کفارہ ہو۔ یہ امام احمد ؒ اور اما م شافعیؒ کا ایک قول ہے اور حسن بصری کا بھی یہی کہنا ہے۔

دونوں اقوال اہل علم میں سے کسی نہ کسی کے اختیار کردہ ہیں اور جو مجھے راجح معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کفارہ واجب نہیں ہو گا، کیونکہ اگر عورت پر بھی واجب ہوتا تو نبی ضرور بیان فرما دیتے، جبکہ یہ بات تو معلوم ہے کہ ضرورت کے وقت مطلوبہ امر بیان نہ کرنا جائز نہیں، واللہ اعلم۔

اللہ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق دے۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

18/12/1424هـ

مواد جديدة

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف