حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
ایسے شخص کے روزے تو صحیح ہیں مگر اس کو چاہیئے کہ اپنے وقت پر نماز ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((تمام نمازوں کا پورا پورا خیال کرو اور خاص طور پر بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے با ادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو)) [البقرہ:۲۳۸]، ایک اور جگہ فرمایا: ((بے شک نماز مسلمانوں کیلئے ایک ایسا فریضہ ہے جو اوقات کا پابند ہے)) [النساء:۱۰۳]، جو کوئی بھی بغیر کسی عذر کے نماز کو وقت پر ادا نہ کرے تو وہ اس وعید میں داخل ہے جو کہ اللہ تعالی نے بیان فرمائی: ((ہلاکت ہے ان نماز پڑھنے والوں کیلئے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں)) [الماعون:۴،۵]
اور جہاں تک روزے کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے روزے میں اجر کی کمی کر دی جاتی ہے کیونکہ نبی ﷺنے فرمایا جیسا کہ ابو ہریرہؓ سے بخاری کی حدیث میں مروی ہے: ((جس نے جھوٹ کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا ترک کرے))، تو نماز کا بغیر کسی عذر کے مؤخر کر دینا عمل بالزور (جس کا حدیث میں ذکر ہے) میں سے ہے لہذا یہ شخص اللہ سے ڈرے اور نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کی پابندی کرے، البتہ فی نفسہ روزے اس کے ٹھیک ہیں۔
آپ کا بھائی
خالد المصلح
15/12/1424هـ