السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 3 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 3 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایک عورت بیمار ہوئی اوررمضان کا مہینہ پورا ہونے سے پہلے انتقال کر گئی، اب اس پر کیا واجب ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

ایک عورت بیمار ہوئی اوررمضان کا مہینہ پورا ہونے سے پہلے انتقال کر گئی، اب اس پر کیا واجب ہے؟

تاريخ النشر : 11 رجب 1438 هـ - الموافق 08 ابريل 2017 م | المشاهدات : 620

ایک بوڑھی عورت نے رمضان کے ابتدائی روزے رکھے پھر بیمار ہو گئی اور باقی روزے نہیں رکھ سکی حتی کہ انتقال کر گئی تو کیا اب اس کی طرف سے قضاء کرنا یا کھانا کھلانا جائز ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے

مرضت وتوفيت قبل تمام الشهر فماذا عليها؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر اس کی یہ حالت تھی کہ صحتیاب بھی نہیں ہوئی اور مرض کی وجہ سے روزے بھی نہیں رکھ سکی اور اس کا مرض بھی ایسا تھا کہ ٹھیک ہونے کی امید تھی تو اس پر کچھ واجب نہیں اور نہ ہی اس کے اولیاء پر، البتہ اگر بیماری ایسی تھی کہ صحت کی امید نہ تھی تو اس پر ہر ایک دن کی طرف سے ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب تھا اب اگر اس نے نہیں کھلایا تو آپ لوگ اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

29/10/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف