السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 9 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 9 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

رمضان میں دن کے قت خفیہ گناہ (مشت زنی) کرنا

مشاركة هذه الفقرة

رمضان میں دن کے قت خفیہ گناہ (مشت زنی) کرنا

تاريخ النشر : 23 رجب 1438 هـ - الموافق 20 ابريل 2017 م | المشاهدات : 865

مجھے خفیہ گناہ کی عادت لگی ہوئی ہے اور رمضان میں بھی دو مرتبہ کر بیٹھا اور مجھے اس بات کا علم بھی ہے کہ اس کی قضاء واجب ہے، میرا سؤال یہ ہے کہ کیا جو میں نے کیا ہے اس حدیث کے منافی ہے ((جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے گئے)) مطلب یہ کہ کیا میرے لئے پورے مہینے کے روزوں کا اجر لکھا جائے گا یا میرا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنہوں نے پورا مہینہ روزے رکھے ہی نہیں؟

ایک سؤال یہ بھی ہے کہ میں نے ان دنوں میں سے ایک کی قضاء کی نیت سے روزہ رکھا تھا اور میں سفر کر کے اپنے چچا کے ہاں گیا تو انہوں نے زبردستی مجھے دوپہر کا کھانا کھلایا اس وجہ سے کہ میں ان کا ہاں نہیں ٹھہروں گا اور بہت عرصہ بعد ملاقات ہو گی تو میں نے اس دن روزہ توڑ دیا جو کہ اصل میں فرض روزے کی قضاء کیلئے رکھا تھا تو اب میں کیا کروں؟ دو مرتبہ اسے قضاء کروں یا کچھ اور؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے، والسلام

العادة السرية في نهار رمضان

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اللہ سے دعا ہے کہ مجھے بھی معاف کرے اور آپ نے جو کیا اس پر آپکی توبہ بھی قبول فرمائے، رمضان میں جو آپ نے مشت زنی کی ہے اس سے آپ کا روزہ ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے جو حدیث میں فضیلت آئی ہے وہ آپ حاصل نہیں کر سکے، آپ پر واجب ہے کہ زیادہ سے زیا دہ نیک اعمال کریں اور شہوت کو ابھارنے والے فتنوں سے جتنا ہو سکے دور رہیں، اور جو آپکا دوسرا سؤال ہے کے آپ نے قضاء والے دن روزہ توڑ دیا تو یہ جائز ہے کیونکہ واجب روزے بھی مرض یا سفر کی حالت میں توڑے جا سکتے ہیں، اب آپ کے ذمے ایک روزے کی قضاء ہے نہ کہ دو کی۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/11/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف