السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 18 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 18 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

فجر کی اذان کے وقت میں نے پانی پی لیا تو اب میرے روزے کا کیا حکم ہے؟

مشاركة هذه الفقرة

فجر کی اذان کے وقت میں نے پانی پی لیا تو اب میرے روزے کا کیا حکم ہے؟

تاريخ النشر : 23 رجب 1438 هـ - الموافق 20 ابريل 2017 م | المشاهدات : 1484

فجر کی اذان جیسے ہی شروع ہوئی مجھے کھانسی ہونے لگی جس کی وجہ سے میں نے پانی بیا یہ جانتے ہوئے کہ اذان ابھی ختم نہیں ہوئی، میری علم کے مطابق تو اس لمحے میں پانی پینا جائز تھا، آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟

شربت الماء مع أذان الفجر فما حكم صيامي؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((کھاؤ  پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے)) [البقرہ:۱۸۷] آیت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اگر فجر واضح ہو جائے تو کھانا،پینا اور جماع کچھ جائز نہیں ۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اسی پر ایک حدیث بھی دلالت کر رہی ہے جو کہ صحیحین میں ابن عمر اور عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ((بلال رات کے وقت اذان دیتا ہے، لہذا کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے))، اور جہاں تک سنن ابی داؤد کی روایت کا تعلق ہے جو کہ ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا: ((اگر تم میں سے کوئی اذان سنے اس حالت میں کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اس کو تب تک نہ رکھے جب تک اس سے ضرورت پوری کر چکے)) تو یہ ضعیف ہے، ابو حاتم نے علل میں اسے ضعیف قرار دیا ہے اور حاکم نے مستدرک میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے: یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو ذکر نہیں کیا۔ ابن مفلح نے فروع میں لکھا ہے(۷۰/۳): اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے جب تک طلوع فجر متحقق نہ ہوا ہو، اور بیہقی نے سنن میں کہا ہے(۲۱۸/۴): اگر یہ صحیح ہے تو اس کو محمول کیا جائے گا اس صورت پر کہ اسے پتہ چل گیا ہو کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دے رہا ہے اور اس کا پانی پینا فجر کی نماز سے پہلے ہو۔

اس بنیاد پر مؤذن حسابی کیلنڈر کے مطابق اذان دے رہا تھا جس سے طلوع فجر متحقق نہیں ہوتا تو میری رائے میں تو اذان کے وقت کھانے پینے سے کچھ مانع نہیں ہے، لیکن احتیاط ترک کرنے میں ہی ہے، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

26/09/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف