کسی شخص نے رمضان میں دن کے وقت ارادی طور پر یا غیر ارادی طور پر منی کا انزال کیا تو اس کا آپ کی نظر میں حکم شرعی کیا ہے؟
حكم إنزال المني في نهار رمضان بتعمد أو بدون
کسی شخص نے رمضان میں دن کے وقت ارادی طور پر یا غیر ارادی طور پر منی کا انزال کیا تو اس کا آپ کی نظر میں حکم شرعی کیا ہے؟
حكم إنزال المني في نهار رمضان بتعمد أو بدون
الجواب
حمد و ثناء کے بعد۔۔۔
بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:
احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ کے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ ارادی طور پر منی کا انزال اگرچہ جماع کی صورت میں نہ ہو روزے کو فاسد کر دیتا ہے، چاہے مشت زنی والی صورت ہو یا کوئی اور۔
اور بنیاد اس مسئلہ میں ابوہریرہ ؓ والی حدیث ہے جو کہ شیخان نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ((اللہ تعالی فرماتے ہیں: ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزے کے۔ کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں اس کا اجر خود دوں گا)) اور بخاری کی روایت میں ہے: ((وہ اپنا کھانا پینا اور شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے)) اور مسلم کی روایت میں ہے: ((وہ اپنا کھانا اور شہوت میرے لئے چھوڑتا ہے)) تو آپ ﷺکا شہوت کا ذکر کرنا یہ عام ہے اس میں تمام وسائل شامل ہیں جس سے شہوت حاصل کی جاتی ہے حتی جماع کے علاوہ کے وسائل بھی اور اس بات پر صحیح مسلم کی روایت دلالت کر رہی ہے جو کہ ابوذرؓ سے مروی ہے: کہ آپﷺنے فرمایا: ((تمہارے لئے شرمگاہ میں بھی صدقہ کا اجر ہے)) صحابی نے کہا : یا رسول اللہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اجر ہے؟ فرمایا: ((کیا کہتے ہو اگر اس نے اسے حرام جگہ پر استعمال کیا تو اس پر گناہ ہو گا؟ اسی طرح اگر حلال جگہ استعمال کرتا ہے تو اسے اجر ملے گا)) شرمگاہ کا ذکر کرنے سے اگرچہ جماع مراد ہے لیکن جو اس سے کم درجے کی چیز ہے جس سے تلذذ حاصل ہوتا ہے وہ بھی حدیث کے تحت داخل ہے کیونکہ شہوت کے معنی کو سب شامل ہے ، معنی یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس سے نفس کو لذت حاصل ہو اور وہ اس کی طرف مائل ہو۔ اسی وجہ سے شافعیہ کے ہاں شہوات کو علی الاطلاق چھوڑ دینا مستحب ہے، صائم کیلئے بوسہ لینے کی کراہیت کی علت کے بارے میں کہتے ہیں جیسے مغنی المحتاج میں لکھا ہے(۱۶۰/۲): اور کیونکہ صائم کیلئے سنت یہ ہے کہ مطلقاََ شہوات کر چھوڑ دے۔ تو یہ اگرچہ نا قابل تسلیم ہے مگر یہ کہ جس نے قضائے شہوت مشت زنی یا مباشرت کے ذریعے پوری کرنا چاہی اس نے بھی شہوت تو نہ چھوڑی، تو اس کو صرف جماع پر محمول کرنا ٹھیک نہیں۔
اور جہاں تک منی کا غیر ارادی طور پر نکلنے کا تعلق ہے تو اس کا روزے پر بالاتفاق کوئی اثر نہیں پڑتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((جس میں تم کو خطا ہو جائے اس میں تم پر کوئی پکڑ نہیں مگر اس پر جس کا تمہارے دل ارادہ رکھتے ہوں)) [الاحزاب:۵] اور یہ حدیث میں بھی آیا ہے جو کہ امام ترمذی اور دیگر نے ابو سعید خدری سے مرفوعاََ ذکر کی ہے: ((تین چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا: حجامہ،الٹی اور احتلام))، اس حدیث کو بعض ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے جن میں احمد، ذہبی اور ابن خزیمہ شامل ہیں، امام ترمذی نے اس کے بارے میں کہا ہے:ابو سعید کی حدیث غیر محفوظ ہے۔
تو اس میں مرجع اجماع ہے اور وہ نصوص جو دلالت کر رہی ہیں اس پر کہ سویا ہوا شخص مرفوع القلم ہے اور وہ نصوص جو عدم تعمد پر عدم مؤاخذہ کے بارے میں ہیں، واللہ اعلم۔
آپ کا بھائی/
خالد المصلح
11/09/1424هـ