السبت 4 جمادى آخر 1442 هـ
آخر تحديث منذ 52 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 4 جمادى آخر 1442 هـ آخر تحديث منذ 52 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

رمضان کی قضاء سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھنا

مشاركة هذه الفقرة

رمضان کی قضاء سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھنا

تاريخ النشر : 23 رجب 1438 هـ - الموافق 20 ابريل 2017 م | المشاهدات : 1132

اگر کسی عورت پر رمضان کے کچھ روزے قضاء کرے باقی ہوں اور وہ شوال کے چھ روزے رکھنا چاہتی ہو تو پہلے کیا کرے گی؟ شوال کے چھ روزے رکھے یا رمضان کی قضاء کرے؟

حكم صيام ست من شوال قبل قضاء رمضان

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

قضاء سے پہلے نفلی روزے رکھنے میں علماء کا اختلاف ہے جو کہ بالجملہ دو قولوں پر مشتمل ہے:-

پہلا قول: رمضان کی قضاء سے پہلے نفلی روزے رکھنے کا جواز ، یہ جمہور کا قول ہے جو یا تو مطلقا جواز کا ہے یا کراہت کے ساتھ ہے۔ احناف نے بھی رمضان کی قضاء سے پہلے نفلی روزے رکھنے کو جائز کہا ہے کیونکہ قضاء فوراََ واجب نہیں بلکہ اس کے وجوب میں وسعت ہے اور یہی روایت امام احمد سے بھی ہے۔

مالکیہ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ ایسا کرنے میں جواز ہے مگر کراہت کے ساتھ کیونکہ نفل میں مشغول ہو جانے سے قضاء میں تأخیر ہو رہی ہے جو کہ واجب ہے۔

دوسرا قول: رمضان کی قضاء سے پہلے نفلی روزے رکھنا حرام ہے اور یہ مذہب حنابلہ کا ہے۔

اور ان دونوں اقوال میں سے صحیح جواز کا ہے کیونکہ قضاء کے وقت میں وسعت ہے، اور عدم جواز یا عدم صحت کا قول دلیل مانگتا ہے اور ایسی معتمد دلیل کوئی ہے نہیں۔

اور جہاں تک رمضان کی قضاء کرنے سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھنے کا تعلق ہے تو اہل علم کے اس بارے میں دو قول ہیں:-

پہلے تو یہ کہ شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اسی شخص کو حاصل ہوتی ہے جس پر رمضان کی کوئی قضاء نہ باقی ہو، اور اس پر استدلال انہوں نے نبیکے فرمان سے کیا ہے جو مسلم میں ابو ایوب انصاری سے مروی ہے: کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شول کے چھ روزے رکھے وہ ایسے ہے جیسے اس نے پورے زماے کے روزے رکھے۔ رمضان کے روزے رکھنے کا معنی تب پورا ہوتا ہے جب اس کا عدد پورا ہو، ہیتمی نے تحفۃ المحتاج میں لکھا ہے(۴۵۷/۳): (کیونکہ یہ رمضان کے روزوں کے ساتھ ہیں، مطلب کہ سارے روزوں کے ساتھ ، ورنہ یہ فضیلت حاصل نہ ہوتی اگرچے روزہ کسی عذر کی بنا پر ہی چھوڑا ہو) اور ابن المفلح نے ابنی کتاب فروع میں لکھا ہے(۱۰۸/۳): {اس کی فضیلت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اگر عذر کی وجہ سے چھوڑے بھی تو ان کی قضاء کر لی، اور یہی اصحاب کی مراد لگتی ہے}۔

اس زمانہ کے علماء کی ایک جماعت نے اسی قول کو اختیار کیا ہے جن میں بن باز اور محمد العثیمین ہیں۔

دوسرے یہ کہ شوال کے چھ روزوں کی فضیلت اسے بھی حاصل ہوتی ہے جو رمضان کی قضاء سے پہلے رکھ لے کیونکہ جس نے رمضان کا کوئی روزہ عذر کی وجہ سے چھوڑا اس پر بھی یہ بولا جاتا ہے کہ اس نے رمضان کے روزے رکھے، تو اب اگر اس نے قضاء کرنے سے پہلے ہی شوال کے چھ روزے بھی رکھ لئے تو اسے آپکے فرمان کے مطابق فضیلت حاصل ہو جائے گی۔

بجیرمی نے خطیب کی کتاب پر حاشیہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ جس نے قضاء سے پہلے چھ روزے رکھے اسے یہ ثواب حاصل نہیں ہو گا اور حجت آپکے قول سی ہی پکڑی ہے کہ ((پھر اس کے بعد چھ روزے رکھے)) (۳۵۲/۲) بعض اہل علم نے یہ جواب دیا: کہ کبھی کبھار تبعیہ میں تقدیریہ شامل ہوتا ہے کیونکہ اگر اس نے رمضان کے کچھ روزے اس کے بعد رکھے تو بھی یہ تقدیراََ پہلے ہی واقع ہو جائیں گے، یا یہ کہ تبعیہ میں متأخرہ بھی شامل ہوتی ہیں جیسا کہ نفل جو کہ فرائض کے تابع ہوتے ہیں، لہذا یہ روزے بھی سنت ہونگے اگرچہ رمضان کے کچھ روزے چھوڑے ہوں۔ مبدع میں لکھا ہے(۵۲/۳) لیکن فروع میں مذکور ہے کہ اس کی فضیلت اسے بھی حاصل ہو جائے گی جس نے یہ روزے رکھے اور رمضان کی قضاء کے روزے رکھے جو کہ اس نے کسی عذر کی بنا پر چھوڑ دئے تھے، اور یہی اصحاب کی مراد لگتی ہے، اور اس قول میں نظر ہے۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ دوسرا قول زیادہ اصح ہے خاص طور پر یہ کہ جس معنی کی بنیاد پر فضیلت کا ادراک ہے وہ قضاء سے فارغ ہونے پر موقوف نہیں کیونکہ رمضان کا دیگر دس مہینوں کا مقابلہ میں ہونا فرض کے اکمال سے حاصل ہو جاتا ہے چاہے اداء کے اعتبار سے ہو یا قضاء کے اعتبار سے اور اللہ تعالی نے قضاء میں وسعت رکھی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے، اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا تاکہ تم گنتی پوری کر لو)) [البقرہ:۱۸۵]۔ اور جو شوال کے چھ روزوں کی فضیلت ہے تو وہ اس مہینے کے ساتھ ہی خاص ہے اگر یہ گزر گیا تو حاصل نہیں ہو سکتی، بہرحال سب سے پہلے رمضان کے روزوں سے فارغ ہونا ہی افضل ہے نفلی روزے رکھنے سے، لیکن پھر بھی جس نے چھ روزے رکھے پھر قضاء روزے بھی رکھ لئے اس کیلئے فضیلت حاصل ہو جائے گی، کیونکہ اس فضیلت کی نفی کیلئے کوئی دلیل نہیں، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

14/10/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف