×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / طلاق رجعی

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

طلاق رجعی کا کیا حکم ہے؟ جوان عورت جسے حیض آتا ہے اور وہ بوڑھی عورت جسے حیض نہیں آتا ان کیلئے عدت کی مدت کتنی ہے؟ اور شوہو کیلئے رجوع کرنے کی کیا صورت ہو گی؟ اور کیا رجوع کرتے وقت دو گواہ ایک ہی مجلس میں ہونے کی شرط بھی ہے؟ الطلاق الرجعي

المشاهدات:3148

طلاق رجعی کا کیا حکم ہے؟ جوان عورت جسے حیض آتا ہے اور وہ بوڑھی عورت جسے حیض نہیں آتا ان کیلئے عدت کی مدت کتنی ہے؟ اور شوہو کیلئے رجوع کرنے کی کیا صورت ہو گی؟ اور کیا رجوع کرتے وقت دو گواہ ایک ہی مجلس میں ہونے کی شرط بھی ہے؟

الطلاق الرجعي

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

طلاق رجعی کی صورت میں شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوران عدت بیوی سے بغیر نئے نکاح کے اور بغیر عدت کے رجوع کر سکتا ہے اور بیوی کی رضامندی بھی ضروری نہیں ہے اگر رجوع کرنے سے اس کا ارادہ خیر اور صلح کا ہو۔

اور جس عورت کو حیض آتا ہے اس کی عدت تین حیض ہے اور جسے حیض نہیں آتا اسکی عدت تین مہینے ہے۔

اور رجوع کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہے: میں اپنی فلاں بیوی سے رجوع کرتا ہوں اور اس پر گواہ بنا دے اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں اکٹھے ہونا مشروط نہیں ہے ، اگر پہلے ایک شخص کو گواہ بنا دیا پھر اس کے بعد دوسرے کو گواہ بنا دیا تو شہادت حاصل ہو جائے گی۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

17/01/1425هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133584 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67226 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66537 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات57950 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56746 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56702 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54381 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات47669 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف