الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 24 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 24 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو وہ عدت کہاں گزارے گی؟

مشاركة هذه الفقرة

جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو وہ عدت کہاں گزارے گی؟

تاريخ النشر : 4 شعبان 1438 هـ - الموافق 01 مايو 2017 م | المشاهدات : 1767

جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو وہ عدت کہاں گزارے گی؟ اور کیا وہ اپنی بیٹی کے گھر ٹھہر سکتی ہے کیونکہ اس کے شوہر کا گھر اس کیلئے مناسب نہیں اور کیا اپنی بیٹیوں کے گھروں میں آجا سکتی ہے؟ اور کیا اگر صورتحال ایسی ہو کہ اس کا خرچہ برداشت کرنے والا کوئی نہ ہو تو وہ کچھ خرچ کا بندوبست کرنے کیلئے باہر نکل سکتی ہے؟ اور کیا ضرورت کیلئے گھر سے نکل سکتی ہے؟

أين تبيت المعتدة لوفاة زوجها ؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

عام علماء کا مذہب یہ ہے کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا ہو اس پر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے گھر میں ہی رہے، ان کا استدلال اس فرمان باری تعالی سے ہے: ((انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں)) اور اس سے بھی زیادہ صراحت اس حدیث میں ملتی ہے جو صحیح ستہ میں سے پانچ نے ذکر کی ہے، فریعہ بنت مالک ؓ کہتی ہیں: میرے شوہر اپنے کچھ بھاگے ہوئے غلاموں کو ڈھونڈنے نکلے تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا، ان کی موت کی خبر جب مجھے ملی تو میں اس گھر میں تھی جو میرے اہل کے گھر سے بہت دور تھا، میں نے رسول اللہسے اس بات کا ذکر کیا اور کہا: میرے شوہر کی موت کی خبر جب مجھے پہنچی تو میں اپنے اہل (والدین) کے گھر سے دور ایک گھر میں تھی، میرے شوہر نے نہ کوئی خرچہ چھوڑا ہے اور نہ ہی کوئی مال مجھے وراثت میں ملا ہے، اور گھر بھی اس کا اپنا نہیں ہے، تو اگر میں اپنے اہل اور اپنے بھائیوں کے گھر منتقل ہو جاؤں تو میرے لئے یہ زیادہ آسانی کا باعث ہو گا، تو آپ نے فرمایا: ((منتقل ہو جاؤ))، تو جب میں مسجد کیطرف یا حجرے کیطرف چلی تو آپ نے مجھے بلوایا اور کہا: ((اپنے شوہر کے گھر میں رکو یہاں تک کہ وقت پورا ہو جائے)) کہتی ہیں: پھر میں نے اس گھر میں چار مہینے دس دن عدت گزاری، اور کہتی ہیں: عثمان ؓ نے یہ پوچھنے کیلئے میرے پاس ایک شخص کو بھیجا میں نے انہیں بتا دیا تو انہوں نے اس پر عمل کیا۔

اس حدیث کے ثبوت کے اعتبار سے اگرچہ بعض علماء نے کلام کیا ہے مگر ابن القیمؒ نے اس حدیث پر نقد کے جواب میں کہا ہے: یہ نقد اس صحیح اور صریح سنت کو رد نہیں کر سکتی جس کو عثمان ؓ نے اور دیگر اکابر صحابہ نے قبول کیا ہو۔

معتدہ کے حق میں یہ حکم ہی ثابت ہے جب تک اس کو ایسے اسباب کی وجہ سے نکلنے کی حاجت نہ درپیش ہو جن کیوجہ سے اس کا گھر میں رہنا مشکل ہو یا اس کو بہت مشقت کا سامنا ہو تو ایسی صورت میں جمہور علماء حنفیہ مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک نکلنا جائز ہے اور جس گھر کی طرف وہ منتقل ہوئی ہے وہاں پر اس کو ٹھہرنا ایسے ہی لازم ہو گا جیسے پچھلے گھر میں تھا۔

اور جہاں تک وقتی نکلنے کی بات ہے تو جمہور علماء کے نزدیک ضرورت کیلئے یہ جائز ہے مگر پھر بھی اس کو رات اس گھر میں ہی گزارنی ہو گی، اور جن حاجات کی وجہ سے اس کا نکلنا جائز ہے وہ یہ ہیں: رزق کی تلاش میں نکلنا جیسا کہ فریعہ ؓ کی حدیث میں ہے، اکیلے ہونے کی وجہ سے وحشت ہونے لگے تو اپنی سہیلوں کے پاس جا سکتی ہے لیکن سونے کیلئے گھر واپس لوٹنا ہو گا، فقہائے حنابلہ نے نکلنے میں دن اور رات کی تفریق کی ہے اور کہا ہے: حاجت کیلئے دن میں نکل سکتی ہے اور رات کو نہیں نکل سکتی سوائے یہ کہ بہت شدید ضرورت ہو، میرے علم کے مطابق احادیث میں اس کی تأیید میں کچھ موجود نہیں، اور میں نے اس بارے میں اپنے شیخ بن باز ؒ سے بھی سؤال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ اس کی کوئی توجیہ موجود نہیں، لہذا صحیح وہی ہے جو جمہور کا مذہب ہے کہ دن اور رات کی کوئی تفریق نہیں، واللہ اعلم

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف