الاثنين 14 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 32 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 14 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 32 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

لطیفے اور ہنسانے والے قصے سننے سنانے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

لطیفے اور ہنسانے والے قصے سننے سنانے کا حکم

تاريخ النشر : 16 شعبان 1438 هـ - الموافق 13 مايو 2017 م | المشاهدات : 1269

لطیفے اور مضحکہ خیز قصے سننے سنانے کا کیا حکم ہے ، ایسے قصے جن میں کوئی ایسا کلام نہ ہو جو شریعت سے متصادم ہو اور نہ ہی کوئی بے حیائی والی بات ہو اور نہ ہی کسی متعین شخص پر جھوٹ باندھنا ہو؟ اور کیا رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث مندرجہ سیاق سے متعلق ہے۔ فرمایا: ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جو جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے، ہلاکت ہے اس کیلئے ، ہلاکت ہے

حكم النكت والقصص المضحكة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر اس لطیفے کی کوئی حقیقت نہ ہو، سراسر بناوٹی ہو تو یہ اس وعید میں داخل ہے جس حدیث کے بارے میں آپ نے پوچھا، یہ حدیث صحیح ہے اور نبی نے فرمایا: "جو کوئی بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ یا تو خیر کی بات کہے یا خاموش رہے"

المادة السابقة

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف