الاثنين 9 رمضان 1442 هـ
آخر تحديث منذ 5 ساعة 3 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 9 رمضان 1442 هـ آخر تحديث منذ 5 ساعة 3 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

عورت کا عورت کے حق میں ستر

مشاركة هذه الفقرة

عورت کا عورت کے حق میں ستر

تاريخ النشر : 16 شعبان 1438 هـ - الموافق 13 مايو 2017 م | المشاهدات : 767

یہ تو معلوم ہے کہ عورت دوسری عورتوں کے سامنے اپنا جسم نہیں کھول سکتی مگر وہ اعضاء جن کا منکشف کرنا عادت میں معروف ہو جیسے گردن، سر، بازو اور قدم، تو کیا عورت اس کے علاوہ کوئی اعضاء اپنے عزیز و اقارب ماں ،بہنوں کے سامنے کھولے گی تو گنہگار ہو گی جیسے پنڈلیاں، کہنی سے اوپر بازو وغیرہ جبکہ اس کا یہ عمل قصداََ نہ ہو بلکہ تساہلاََ ہو مثال کے طور پر وہ چھوٹے کپڑے پہن لے؟

عورة المرأة على المرأة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

عورت کے اوپر واجب ہے کہ اپنے حال اور لباس کے اعتبار سے حیاء اپنائے رکھے، اور جو آپ نے ذکر کیا کہ عورت دوسری عورتوں کے سامنے عرف کے مطابق اعضاء منکشف کر سکتی ہے جیسے سر، گردن، بازو اور پاؤں وغیرہ، تو اہل علم کی جماعت جن میں اہل فقہ اور اہل حدیث ہیں کے ہاں یہی مذہب ہے، لیکن ان کا اختلاف عرف کی تعیین اور تحدید کے بارے میں ہے، تو ان میں سے بعض ہیں جو عادت میں پنڈلی اور کہنیوں سے اوپر بازو بھی شمار کرتے ہیں، اور یہ سب اس صورت میں ہے جب فتنہ کا خدشہ نہ ہو اور کوئی شبہہ بھی نہ ہو، واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

03/01/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف