السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 28 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 28 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

عورت کا بغیر محرم کے بازار جانے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

عورت کا بغیر محرم کے بازار جانے کا حکم

تاريخ النشر : 16 شعبان 1438 هـ - الموافق 13 مايو 2017 م | المشاهدات : 550

کیا عورت کو بغیر محرم کے بازار جانے کی اجازت ہے؟ دلیل کیا ہے؟

خروج المرأة للسوق بدون محرم

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اصل کے اعتبار سے عورت کے بازار جانے کیلئے محرم کا ساتھ ہونا شرط نہیں ہے اگر اس سے سفر شرعی نہ لازم آتا ہو، لیکن جب بازاروں میں فساد عام ہو گیا ہے غلط نیت کے افراد کا عورتوں کے آڑے آنے کی وجہ سے تو نصیحت یہی ہے کہ اپنے گھر والوں کو اکیلے بازار میں نہ چھوڑا جائے خاص طور پر اگر اہل فسق اور شر پسند قسم کے لوگ اس کے اہل میں رغبت رکھتے ہوں، لہذا آدمی کو چاہئیے کہ اپنی زوجہ، بیٹی، ماں یا بہن کے ساتھ خاص طور پر بازار میں ساتھ ساتھ رہے اور ان کو اگر نکلنے کی اجازت دے بھی تو ایسی عورتوں کے ساتھ جو اطمئنان بخش ہوں، دیندار ہوں، عقل والی ہوں، اور چاہئیے کہ ایسے اوقات میں نکلا جائے جب فساد کا خدشہ کم ہو۔

اور جہاں تک اس بارے میں دلیل کا تعلق ہے تو محرم کے شرط ہونے پر کتاب و سنت میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے، اور یہ ہی صحابہ ؓ کے احوال سے بھی ظاہر ہے، واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/04/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف