الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 8 ساعة 46 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 8 ساعة 46 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

خاندان کا سربراہ اعتکاف میں بیٹھ گیا اور بچوں کو سڑکوں پر بٹھکنے چھوڑ دیا

مشاركة هذه الفقرة

خاندان کا سربراہ اعتکاف میں بیٹھ گیا اور بچوں کو سڑکوں پر بٹھکنے چھوڑ دیا

تاريخ النشر : 16 شعبان 1438 هـ - الموافق 13 مايو 2017 م | المشاهدات : 394

بعض خاندان جو کہ مکہ مکرمہ میں اعتکاف کرتیں ہیں، یہ لوگ حرم چلے جاتے ہیں تاکہ وہاں صیام و قیام کریں اور اپنے بچے بچیوں کو جو کہ اب بلوغت کے قریب ہیں بازاروں میں گھومتے پھرتے چھوڑ جاتے ہیں جس سے ان کا مذاق بنتا ہے اور لوگ چھیڑ چھاڑ کرتے پھرتے ہیں، اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

اعتكف رب الآسرة وترك أبناءه يتسكعون في الطرقات

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

رمضان میں خیر کے بہت سے دروازے ہیں جن میں عبادت و اطاعت چاہے واجب ہو یا مستحب یہ سب شامل ہے جیسے نماز، زکاۃ اور عمرہ وغیرہ، اور ان عبادات کے مختلف درجات اور مراتب ہیں اور ان درجات سے نا آشنائی، ان مراتب کو نہ پہچاننا انسان کیلئے بہت سارے اجر و ثواب کے فوت ہو جانے کا سبب بن جاتی ہے، ایک بندے کیلئے یہ جائز نہیں کہ مستحبات میں مشغول ہو کر واجبات کو چھوڑ بیٹھے؛ بخاری نے عطاء بن یسار عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے روایت ذکر کی ہے(۶۵۰۲) کہ آپ نے فرمایا: ((اللہ تعالی فرماتے ہیں:اور بندہ میرے سے قریب سب سے زیادہ اسی چیز سے ہوتا ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے، اور بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔۔۔)) تو ہمارے بعض بھائی اپنے بچوں بچیوں کے ساتھ جو کرتے ہیں یہ بالکل نا مناسب ہے، خود رمضان کے مہینے میں طاعات میں مشغولیت اختیار کر لینا، عمرہ اعتکاف اور قیام اللیل یا دنیاوی اعتبار سے راتوں کو جاگنے کی مصروفیت اور دیگر امور یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے اولاد کی تربیت کرنے کے واجب میں خلل ڈالنا اور اس کو ضائع کرنا ہے، اللہ کا فرمان ہے: ((اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنی اہل کو آگ سے بچاؤ، ایسی آگ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اس پر ایسے فرشتے کھڑے ہوں گے جو بڑے سخت اور قوی ہیں جو اللہ نے انہیں حکم دیا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور جو امر کیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں)) [التحریم:۶]

لہذا ان سرپرستوں کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے واجب میں خلل ڈالیں اور مستحب عبادات میں مشغولیت کا عذر پیش کریں، یہ سنت پر تو عمل کر رہے ہیں مگر فرض کو چھوڑ رہے ہیں، ہمارے نبی محمد کی زندگی پر نظر رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ آپ رمضان کے آخری عشرے میں اپنی مشغولیت اور شدت اجتہاد کے باوجود بھی اپنے اہل کو نہیں بھولتے تھے، انہیں نماز کیلئے اٹھاتے تھے، مسلم میں اسود بن یزید کے طریق سے مروی ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ آخری عشرے میں (عبادات میں) اتنی محنت کرتے تھے جتنی عام دنوں میں نہیں کرتے تھے، بخاری (۲۰۲۴) اور مسلم (۱۱۷۴) میں مسروق عن عائشہؓ کے طریق سے مروی ہے، فرماتی ہیں: جب آخری دن آتے تو نبی اپنا تہبند کس لیتے اپنی راتوں کو زندہ رکھتے اور اپنے اہل کو اٹھاتے۔ یہ ایک حدیث ذکر کی، احادیث کے اس مجموعہ سے جو نبی کے اپنے اہل و عیال کیساتھ کثرت عبادت کے باوجود شدت اہتمام کو ظاہر کرتا ہے، میں والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں منتبہ اور خبردار کرتا ہوں، ان کی تربیت کا جو آپ کی طرف واجب متوجہ ہے اسے اہتمام سے ادا کریں ، کیونکہ ایسا نہ کرنے کا انجام بہت برا ہے، بچے اور والدین  کے آگ میں جلنے کا باعث بن سکتا ہے، اللہ ہم سب کی برے اقوال و افعال سے حفاظت کرے اور امانت کی ادائیگی میں ہماری مدد کرے۔ آمین۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

06/09/1425هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف