الثلاثاء 20 رجب 1442 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 2 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 20 رجب 1442 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 2 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

قبرستان پر عمارت تعمیر کرنا

مشاركة هذه الفقرة

قبرستان پر عمارت تعمیر کرنا

تاريخ النشر : 19 شعبان 1438 هـ - الموافق 16 مايو 2017 م | المشاهدات : 1704

قبرستان میں عمارت تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟ چاہے قبرستان حکومت کا ہو یا کسی شخص کا، مطلب یہ کہ کیا کسی پرانے قبرستان میں جو بہت پرانا ہو، ساٹھ ستر سال پرانا کیا وہاں عمارت تعمیر کرنا، راستہ بنانا جائز ہے؟

حكم البناء في المقابر

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہیں۔

قبرستان پر تعمیر کرنے سے نبی نے منع فرمایا ہے، صحیح مسلم میں جابر ؓسے مروی ہے کہ نبی نے قبر پکی کرنے سے، اس پر بیٹھنے سے اور اس پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ اس بات پر دال ہے کہ قبر پر عمارت بنانا حرام ہے اور نبی نے قبروں پر بنی عمارت توڑنے کا حکم دیا، صحیح مسلم میں ابو الہیاج الاسدی سے مروی ہے کہ علی ؓ نے ان سے کہا، میں تمہیں اسی کام سے بھیج رہا ہوں جس کام سے مجھے نبی نے بھیجا: ((کہ جس مورتی کو بھی دیکھو توڑ دو اور جس اونچی قبر کو بھی دیکھو اسے برابر کر دو)) اس میں ہر وہ جس پر لفظ تعمیر کا اطلاق ہوتا ہے شامل ہے چاہے کوئی قبہ ہو یا کچھ اور اور اگر قبر پر مسجد تعمیر کی گئی ہو تو اسے کے بارے میں نبی سے اور بھی شدید وعید وارد ہے، شیخین نے روایت ذکر کی ہے کہ نبی نے فرمایا: ((یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو جائے سجدہ بنا لیا))، حضرت ابو ہریرہؓ سے یہ ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ((اللہ یہود و نصاری کو ہلاک کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو جائے سجدہ بنا لیا)) ۔

اور جو آپ نے سؤال کیا ہے کہ اگر مقبرہ مثلاََ چالیس سال پرانا ہوجائے تو اس جگہ پر مدرسہ بنانا یا راستہ بنانا یا کوئی اور تعمیر کرنا تو اس بارے میں بظاہر تو یہ ہے کہ اس مدت کی وجہ سے مقبرہ کو بہت پرانا نہیں کہا جا سکتا، بہرحال کسی مصلحت یا حاجت کی وجہ سے قبر اکھاڑنے کے بارے میں مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے فقہاء نے جواز کی  کچھ صورتیں ذکر کی ہیں جن میں ان دو معنوں میں سے ایک معنی پایا جا رہا ہو:

پہلا معنی: زندہ لوگوں کی مصلحت کیلئے یا ان سے ضرر دور کرنے کیلئے قبر اکھاڑنا۔

دوسرا معنی: میت کی مصلحت یا اس سے ضرر کو دور کرنے کیلئے قبر اکھاڑنا۔

قبر اکھاڑنے میں مقبرہ کے پرانے یا نئے ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے، اہم یہ ہے کہ جس وجہ سے اکھاڑی جا رہی ہے اس کا سبب باعث ہو، اور کوئی فرد واحد اس کام کیلئے خاص نہیں ہو سکتا خاص طور پر مصالح عامہ جیسے راستے یا عمارات کے بارے میں، بلکہ کوئی مخصوص قابل اعتماد ادارہ ہو جو اس کا اختیار رکھتا ہو جوابدہ بھی ہو تاکہ فتنہ فساد اور میت کی حرمت جیسے مسائل پیدا نہ ہوں۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

23/10/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف