×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / قبرستان پر عمارت تعمیر کرنا

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

قبرستان میں عمارت تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟ چاہے قبرستان حکومت کا ہو یا کسی شخص کا، مطلب یہ کہ کیا کسی پرانے قبرستان میں جو بہت پرانا ہو، ساٹھ ستر سال پرانا کیا وہاں عمارت تعمیر کرنا، راستہ بنانا جائز ہے؟ حكم البناء في المقابر

المشاهدات:4708

قبرستان میں عمارت تعمیر کرنے کا کیا حکم ہے؟ چاہے قبرستان حکومت کا ہو یا کسی شخص کا، مطلب یہ کہ کیا کسی پرانے قبرستان میں جو بہت پرانا ہو، ساٹھ ستر سال پرانا کیا وہاں عمارت تعمیر کرنا، راستہ بنانا جائز ہے؟

حكم البناء في المقابر

الجواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہیں۔

قبرستان پر تعمیر کرنے سے نبی ﷺنے منع فرمایا ہے، صحیح مسلم میں جابر ؓسے مروی ہے کہ نبی ﷺنے قبر پکی کرنے سے، اس پر بیٹھنے سے اور اس پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے، یہ اس بات پر دال ہے کہ قبر پر عمارت بنانا حرام ہے اور نبی ﷺنے قبروں پر بنی عمارت توڑنے کا حکم دیا، صحیح مسلم میں ابو الہیاج الاسدی سے مروی ہے کہ علی ؓ نے ان سے کہا، میں تمہیں اسی کام سے بھیج رہا ہوں جس کام سے مجھے نبی ﷺنے بھیجا: ((کہ جس مورتی کو بھی دیکھو توڑ دو اور جس اونچی قبر کو بھی دیکھو اسے برابر کر دو)) اس میں ہر وہ جس پر لفظ تعمیر کا اطلاق ہوتا ہے شامل ہے چاہے کوئی قبہ ہو یا کچھ اور اور اگر قبر پر مسجد تعمیر کی گئی ہو تو اسے کے بارے میں نبی ﷺسے اور بھی شدید وعید وارد ہے، شیخین نے روایت ذکر کی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ((یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو جائے سجدہ بنا لیا))، حضرت ابو ہریرہؓ سے یہ ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ((اللہ یہود و نصاری کو ہلاک کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو جائے سجدہ بنا لیا)) ۔

اور جو آپ نے سؤال کیا ہے کہ اگر مقبرہ مثلاََ چالیس سال پرانا ہوجائے تو اس جگہ پر مدرسہ بنانا یا راستہ بنانا یا کوئی اور تعمیر کرنا تو اس بارے میں بظاہر تو یہ ہے کہ اس مدت کی وجہ سے مقبرہ کو بہت پرانا نہیں کہا جا سکتا، بہرحال کسی مصلحت یا حاجت کی وجہ سے قبر اکھاڑنے کے بارے میں مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے فقہاء نے جواز کی  کچھ صورتیں ذکر کی ہیں جن میں ان دو معنوں میں سے ایک معنی پایا جا رہا ہو:

پہلا معنی: زندہ لوگوں کی مصلحت کیلئے یا ان سے ضرر دور کرنے کیلئے قبر اکھاڑنا۔

دوسرا معنی: میت کی مصلحت یا اس سے ضرر کو دور کرنے کیلئے قبر اکھاڑنا۔

قبر اکھاڑنے میں مقبرہ کے پرانے یا نئے ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے، اہم یہ ہے کہ جس وجہ سے اکھاڑی جا رہی ہے اس کا سبب باعث ہو، اور کوئی فرد واحد اس کام کیلئے خاص نہیں ہو سکتا خاص طور پر مصالح عامہ جیسے راستے یا عمارات کے بارے میں، بلکہ کوئی مخصوص قابل اعتماد ادارہ ہو جو اس کا اختیار رکھتا ہو جوابدہ بھی ہو تاکہ فتنہ فساد اور میت کی حرمت جیسے مسائل پیدا نہ ہوں۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

23/10/1424هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135967 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات68020 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67520 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58591 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57735 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56967 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55154 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48203 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف