الاثنين 14 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 8 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 14 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 8 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

علم {جاننے} کیلئے میت کا پوسٹمارٹم کرنا

مشاركة هذه الفقرة

علم {جاننے} کیلئے میت کا پوسٹمارٹم کرنا

تاريخ النشر : 19 شعبان 1438 هـ - الموافق 16 مايو 2017 م | المشاهدات : 656

محترم جناب، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔ علم {جاننے} کیلئے میت کے جسم کو کاٹنا اس کے پوسٹمارٹم کرنے کا کیا حکم ہے؟

حكم تشريح الأموات للعلم

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔

اس بارے میں آج کے دور کے علماء کا اختلاف ہے، دو اقوال ہیں:

پہلا قول: سیکھنے کیلئے میتوں کے اجسام کا پوسٹمارٹم جائز ہے۔

دوسرا قول: اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ تعلیم کی غرض سے میت کے جسم کو کاٹنا جائز نہیں۔

مجھے تو یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تعلیم کی غرض سے ہی ہو میت کے جسم کو کاٹنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں میت کی اہانت ہے اور وہ اللہ کی دی ہوئی کرامت کے خلاف ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((اور ہم نے بنی آدم کو تکریم بخشی اور اسے پانی اور خشکی میں اٹھایا اور انہیں اچھی چیزوں میں سے رزق عطا کیا اور ان کو اپنی تخلیق کردہ بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی)) [الاسراء:۷۰]، اور دوسری وجہ ممانعت کی یہ کہ پوسٹمارٹم میں جسم کے اعضاء کو کاٹنا ہوتا ہے اور یہ مثلہ کی ایک صورت ہے جبکہ نبی نے تو قتال کے دوران دشمن کے ساتھ بھی مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے مسلم میں بریدہ ؓ کی حدیث مذکور ہے کہ نبی نے فرمایا: ((اور مثلہ نہ کرو)) یہ میت کو کاٹنے اور اس کی صورت بگاڑنے کی ممانعت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ میت کو کاٹنے میں اس کی صورت بدلنے اور بگاڑنے میں اس حرمت کر پامال کرنا لازم آتا ہے جو شریعت نے موت کے بعد میت کو بخشی ہے، مسند احمد میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث مذکور ہے: ((میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا)) امام ابو داؤد نے بھی یہ روایت ذکر کی ہے اور حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق ہے، اس کی سند میں سعد بن سعید الانصاری ہیں جن کی احمد اور ابن معین نے تضعیف کی ہے اور انکے بھائی یحیی نے بیہقی کے ہاں ان کی متابعت بھی کی ہے، امام نووی نے خلاصہ میں لکھا ہے: "بیہقی نے یحیی بن سعید الانصاری کے طریق سے یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے"

مجھے راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو کاٹنا جائز نہیں ہے، جہاں تک مسلمان کی بات ہے تو وہ اس وجہ سے کہ زندہ ہو یا مردہ اس کو حرمت حاصل ہے اور جہاں تک کافر کی بات ہے تو نبی نے اس کے مثلے سے منع فرمایا ہے اور یہ بھی ہے کہ یہ آپ کے اس فرمان کے تحت داخل ہو جائے گا: ((میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا))، اور اگر شدید ضرورت ہو تو کافر کی میت کا پوسٹمارٹم کرنا مسلمان میت کی نسبت اہون ہے خاص طور پر اگر موت سے پہلے اس نے اجازت دی ہو، واللہ اعلم

المادة التالية

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف