الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 7 ساعة 37 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 7 ساعة 37 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

قرضے کی زکوٰۃ کی کیفیت

مشاركة هذه الفقرة

قرضے کی زکوٰۃ کی کیفیت

تاريخ النشر : 19 شعبان 1438 هـ - الموافق 16 مايو 2017 م | المشاهدات : 540

قرضے کی زکوٰۃ کی کیا کیفیت ہے؟

ما هي كيفية زكاة الدَّيْن؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

لوگوں کے پاس جو قسطیں ہوتی ہیں چاہے ان کا سبب ٹھیکے ہوں یا چاہے ان کا سبب گاڑیوں کی قسطیں ہوں یا پھر دیون میں سے تھوک تجارات کی اقسام ہوں سب برابر ہے، لہٰذا اگر کسی انسان کو قرضہ ملنے کی امید ہو تو جمہور علماء کے نزدیک ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب ہے ، اور زکوٰۃ کے طریقہ میں اہل علم دو اقوال ہیں:

 پہلا قول:  یہ ہے کہ جب سال پورا ہوگا تو وہ اپنے مال کے ساتھ اس کی زکوٰۃ نکالے گا۔

دوسرا قول:  یہ ہے کہ اس کا اتنا انتظار کیا جائے گا کہ جو مال اس نے بطورِ قرض دیا ہے اس کو وصول کرلے ، اور پھر جتنے سال وہ مال قرضداروں کے پاس رہا ہے تو اتنے سالوں کی زکوٰۃ نکالے گا۔

اور دونوں اقوال کافی زیرِ غور ہیں ، لیکن اگر اسے قرضدار کے نہ آنے کا اندیشہ ہو ، جیسا کہ اگر مال کسی تنگدست و خستہ حال کے پاس ہو اور اس کے نہ آنے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، لیکن اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جب اسے اپنے مال پر قبضہ ہو جائے تو ایک سال کی زکوٰۃ نکال لے ۔

باقی جو اموال لوگوں کے پا س بطور ٹھیکہ کے ہیں اگر وہ ایک سال تک ان کے ذمہ میں رہیں اور آپ کے لئے ثابت بھی ہو جائے اور آپ کو اس کے حاصل ہونے کی بھی قوی امید ہے تو اس حال میں اس کی زکوٰۃ ادا کرلیں، یا تو اپنے مال کے ساتھ یا پھر جب آپ کو قبضہ حاصل ہوجائے تو باقی ماندہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرلیں، آخری قسط اگر مثال کے طور پر تین سال کے ذمہ میں باقی رہے، اور آپ کو قبضہ حاصل ہوجائے تو تین سالوں کی زکوٰۃ ادا کرلیں ، باقی رہی پہلے قسط کی بات تو اس پہ شاید سال بھی نہ گزرے اور وہ آپ کے ہاتھ میں آجائے اس لئے اس حالت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے

مواد ذات صلة

مواد مقترحة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف