الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 49 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 15 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 49 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ضامن شدہ شخص کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنا

مشاركة هذه الفقرة

ضامن شدہ شخص کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنا

تاريخ النشر : 21 شعبان 1438 هـ - الموافق 18 مايو 2017 م | المشاهدات : 507

دو سال پہلے ایک شخص نے مجھ سے اپنی شادی کے لئے کچھ رقم لی اور میں نے اس مال میں اس کی کفالت بھی کی ، اب اس شخص کی ذاتی احوال یہ ہیں کہ وہ معاشی اعتبار سے بالکل خستہ حال ہے ، اس کی ماہانہ تنخواہ اتنی کم ہے جس سے اس کی ضروریات پوری نہیں ہوتی ، اب چونکہ میں اس کا کفیل ہوں اس لئے مجھے اس کی ضروریا ت پوری کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ، وہ شخص صاحب اولاد بھی ہے اور گھر بھی اس کا کرایہ کا ہے ، لہٰذا اس کی کم تنخواہ کی طرف دیکھتے ہوئے میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لئے اپنے زکوٰۃ کے مال میں سے اس کی ضروریات پوری کرنا جائز ہے ؟ یعنی کیا میں ان کو اس کچھ مال اپنی زکوٰۃ میں سے دے سکتا ہوں ؟

دفع الزكاة للمضمون عنه

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

ضامن کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے زکوٰۃ کے مال میں سے ضمان شدہ شخص کی ضروریات پوری کرے ، اس لئے کہ یہ قرض ضامن اور ضمان شدہ شخص دونوں کے ذمہ ہے ، پس اب اگر ضامن اپنے زکوٰۃ کا مال ضمان کے قرض میں دے گا تو یہ ایسا ہوگا جیسا اس نے اپنے آپ کو ہی زکوٰۃ دے دی ، اس لئے کہ اس کے ذریعہ وہ جس قرض کا مطالبہ کر رہا ہے اس کو ساقط  کر رہا ہے ضامن شدہ شخص کی عدمِ ادائیگی کے وقت، اس طرح اس کا نفع اسی کو لوٹتا ہے ، جیسا کہ اگر وہ اس سے اپنا قرضہ چکادے اور وہ جائز نہیں ہے اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے ۔

اور اس بارے میں حنابلہ فقہاء یہ فرماتے ہیں کہ اگر ضامن اور ضمان شدہ شخص دونوں خوشحال و مالدار ہوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک مالدار ہو تو نہ تو ان دونوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اور نہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو ۔ اور شوافع اس بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ضمان شدہ شخص تنگدست ہو اور ضامن مالدار ہو تو پھر اس صورت میں ضمان شدہ شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ، اور یہی صحیح قول ہے ۔

بہرکیف ! ساری بحث کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے کہ ضامن کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ضمان شدہ شخص کو دین کے بدلے میں اپنی زکوٰۃ دے اس لئے کہ عدمِ ادائیگی کی صورت میں وہ اس کا مطالبہ کرتا ہے ۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

أ.د خالد المصلح

06/09/1424هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف