الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ
آخر تحديث منذ 9 ساعة 27 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاربعاء 6 ربيع أولl 1442 هـ آخر تحديث منذ 9 ساعة 27 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

استاد کا طلباء کی طرف سے ہدیہ کردہ کھانا کھانے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

استاد کا طلباء کی طرف سے ہدیہ کردہ کھانا کھانے کا حکم

تاريخ النشر : 25 شعبان 1438 هـ - الموافق 22 مايو 2017 م | المشاهدات : 438

جنابِ مآب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ایک استانی ہوں ، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ طالبات اٹھ کر کلاس میں شیرینی بانٹتی ہیں اور مجھے بھی اس میں سے دے دیتی ہیں ، اسی طرح کبھی کبھی اجتماعی افطاری کا پروگرام بنا کر مجھے بھی اس میں مدعو کرتی ہیں ، اسی طرح بعض اوقات کچھ چھوٹے چھوٹے کارڈ بانٹتی ہیں جن پر کچھ عبارات اور فوائد لکھے ہوتے ہیں ان میں سے مجھے بھی دے دیتی ہیں ، یہ بات ضرور مدّ نظر رہے کہ میں وہ شیرینی اور کارڈ انہیں پر تقسیم کرتی ہوں ، اور بسا اوقات میں ان کے لئے کچھ کھانے کی چیزیں بھی لاتی ہوں ، وہ الحمد للہ ابھی درجۂ متوسطہ {مڈل} کی طالبات ہیں ، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح ان سے میرے قبول کرنے میں کوئی حرج یا گناہ تو نہیں؟ اور کیا یہ خیانت تو شمار نہیں کی جائے گی؟ اللہ آپ کو بے حد جزائے خیر عطا فرمائے

أكل المعلم من الطعام الذي يهدى له من الطلاب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے

بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، اس لئے کہ اس طرح کے امور عام طور پر ہوتے رہتے ہیں اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ، اور اللہ کے رسولنے رشوت اور کارندوں کے حرام ہدایا کی جو وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں یہ ان میں داخل نہیں ہے ، لیکن اگر استاد اس جیسا کوئی ہدیہ ان کو دے دیں تو یہ زیادہ أولیٰ و أفضل اور شبہ سے أبعد ہو گا۔

آپ کا بھائی/

أ.د.خالد المصلح

4/ 1 /1429 هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف