الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 2 ساعة 14 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 2 ساعة 14 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

کیا ہم حضرت علی بن ابی طالب کو رضی اللہ عنہ کہیں یا کرّم اللہ وجہہ؟

مشاركة هذه الفقرة

کیا ہم حضرت علی بن ابی طالب کو رضی اللہ عنہ کہیں یا کرّم اللہ وجہہ؟

تاريخ النشر : 26 شعبان 1438 هـ - الموافق 23 مايو 2017 م | المشاهدات : 1871

حضرت علی بن ابی طالب کا نام لیتے وقت کیا کہنا صحیح ہے رضی اللہ عنہ کہنا یا کرّم اللہ وجہہ کہنا؟ اور کرّم اللہ وجہہ کی اصل کیا ہے؟

هل نقول رضي الله عنه أم كرم الله وجهه؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

سلف کے نزدیک اصل تو یہی ہے کہ تمام صحابۂ رسول کے لئے رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کئے جائیں ، اس لئے کہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ صرف انہی کا شعار بن گیا ہے کہ جب کسی صحابی کو یاد کیا جائے تو ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جائے ، اور حضرت علی بن ابی طالبؓ تو باقی تمام صحابہ میں بہترین صحابیٔ رسول ہیں بلکہ حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے بعد اس امت میں سب سے افضل انسان ہیں ۔

باقی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے اسم گرامی کے ساتھ ’’کرّم اللہ وجہہ‘‘ کہنا صرف انہی کی خصوصیت ہے ، ابن کثیر ؒ نے تو سورۂ احزاب میں ﴿یا أیھا الذین آمنوا صلّوا علیہ وسلّموا تسلیما﴾ کی تفسیر میں یہاں تک لکھا ہے کہ کتاب اللہ کی بہت ساری منسوخ شدہ آیات میں یہ بات غالب ہے کہ صرف علی بن ابی طالب ؓ کے لئے ’’علیہ السلام یا کرّم اللہ وجہہ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے جائیں ، لیکن اس کا معنی اگرچہ صحیح بھی ہو تب بھی تمام صحابہ کے درمیان برابری ہونی چاہئے ، اور اگر یہ تعظیم وتکریم کے باب میں سے ہے تو پھر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں ، علامہ سفّارینی نے غذاء الالباب (ا/۳۳) میں ابن کثیرؒ کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:ـ ’’یہ مکمل طور پر پھیل گیا ہے اور اس نے کانوں اور کتابوں کو بھر دیا ہے‘‘۔ شیوخ فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالبؓ کو ’’کرم اللہ وجہہ‘‘ کے ساتھ اس لئے خاص کیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی پتھر کی مورتی کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوئے ، اور اس میں انشاء اللہ کوئی حرج نہیں، اللہ توفیق دے ۔

باقی حضرت علی بن ابی طالبؓ کے بارے میں یہ جو وارد ہوا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی بت کے سامنے سجدہ نہیں کیا تو یہ بات صرف انہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ان کے علاوہ اور صحابہ کے ساتھ بھی خاص ہے ، لہٰذا أولیٰ یہی ہے کہ علی بن ابی طالبؓ کو اس کے ساتھ خاص نہیں کرنا چاہئے اس لئے کہ میں نے بعض کتابوں میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے نام کے ساتھ بھی ’’کرم اللہ وجہہ‘‘ کے الفاظ پڑھے ہیں جیسا کہ طبری کی کتاب ’’کتاب الآثار‘‘ (۳۷۲/۱) مدنی طبعہ میں ایسا لکھا گیا ہے اسی طرح کتاب کی کئی جگہوں میں ایسا لکھا ہے ۔ واللہ أعلم

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف