الخميس 10 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 24 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الخميس 10 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 24 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

اللہ کی مشیئت و اردہ کے ساتھ معلق منّت کا حکم

مشاركة هذه الفقرة

اللہ کی مشیئت و اردہ کے ساتھ معلق منّت کا حکم

تاريخ النشر : 26 شعبان 1438 هـ - الموافق 23 مايو 2017 م | المشاهدات : 689
- Aa +

فلسطین کی ایک طلاق یافتہ عورت اثنائے گفتگو کہنے لگی کہ انشاء اللہ اگر میں اپنے خاوند کے پاس چلی گئی اور میں نے بچہ جن لیا تو میں اللہ کے نام پر ایک بکرا بھیڑ ذبح کروں گی اور اس کو ہم سب فیملی والے یہاں فلسطین میں کھائیں گے ، کیا یہ منّت ہے؟ اور اگر یہ منّت ہے تو کیا حج کے لئے جانے سے پہلے اس کا پورا کرنا واجب ہے؟ اور کیا اس منّت کو اسی جگہ پورا کرنا ضروری ہے جہاں اس نے یہ منّت مانی تھی؟ اور اس ذبیحہ کے لئے جو صفات ذکر کی تھی کیا انہی صفات پر ذبیحہ ضروری ہے؟ اور کیا اس کے لئے اس ذبیحہ میں سے اپنی فیملی کے ساتھ کھانا جائزطہے؟ اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس پر کفارہ آئے گا؟ اللہ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے

النذر المعلق بالمشيئة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اس صیغہ سے مجھے یہی ظاہر لگ رہا ہے کہ یہ منّت ہے ، لیکن یہ مشیئت کے ساتھ معلّق ہے ، اگر چاہو تو اس کو پورا کرلو اگر نہ بھی کرو تو آپ پر کوئی کفارہ نہیں آئے گا۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

11/11/1424هـ

المادة السابقة

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف