الجمعة 11 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 6 ساعة 58 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الجمعة 11 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 6 ساعة 58 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

آنکھ پر مارنے والے کا ضمان ادا کرنا

مشاركة هذه الفقرة

آنکھ پر مارنے والے کا ضمان ادا کرنا

تاريخ النشر : 26 شعبان 1438 هـ - الموافق 23 مايو 2017 م | المشاهدات : 402
- Aa +

جنابِ مآب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اگر کوئی شخص کسی کو آنکھ پر مارے اور وہ اس کی موت کا سبب بنے ، تو کیا آنکھ پر مارنے والے سے قصاص لیا جائے گا؟ اسی طرح اگر کوئی کسی آلہ کو خراب کردے یا جانور کو مار دے تو ہلاک ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے، کیا اس پر اس کا تاوان آئے گا یا جن چیزوں کو اس نے نقصان پہنچایا ہے اس کی ضمان ادا کرے گا ؟

تضمين العائن

حمد و ثناء اور سلام کے بعد۔۔۔۔

 جب یہ متحقق ہوجائے کہ عائن نے واقعی کوئی چیز تلف کردی ہے تو اس کے بارے میں اہل علم کے دو قول ہیں:

پہلا قول : عائن ضمان ادا کرے گا، یہ مالکیہ میں سے ایک بہت بڑی فقہاء کی جماعت کا مذہب ہے ، ان حضرات نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کوئی کسی شخص کو قتل کرتا ہے اسکی آنکھ کی وجہ سے تو پھر اس پر قصاص یا دیت آئے گی۔

دوسرا قول : عائن پر ضمان نہیں آئے گا، یہ شوافع کا مذہب ہے، وہ کہتے ہیں کہ عائن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور اسی طرح اس پر قصاص اور دیت بھی نہیں آئے گی، اس لئے کہ آنکھ کی وجہ سے کسی کو قتل کرنا ایک غیر منضبط امر ہے ، دوسری بات یہ کہ عائن کی طرف سے ایسا کوئی فعل سرزد نہیں ہوا جو ضمان کو واجب کر دے ، اس لئے اس معاملہ میں تو صرف حسد ہے۔

شوافع کا قول زیادہ قرین قیاس اور أقرب الی الصواب ہے ، خاص کر وہ قول جو قصاص کے متعلق ہے۔

واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

أ.د.خالد المصلح

10/1 /1428هـ

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف