الاربعاء 9 شعبان 1441 هـ
آخر تحديث منذ 17 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

انشورنس کے متعلق اور اس فیلڈ میں کام کرنے کے متعلق مسئلہ

مشاركة هذه الفقرة

انشورنس کے متعلق اور اس فیلڈ میں کام کرنے کے متعلق مسئلہ

تاريخ النشر : 27 شعبان 1438 هـ - الموافق 24 مايو 2017 م | المشاهدات : 274

انشورنس کے متعلق اور اس فیلڈ میں کام کرنے کے متعلق مسئلہ۔

عن حكم التأمين والعمل في مجاله

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

انشورنس کے مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔

جمہور علماء کی رائے ہے کہ تجارتی انشورنس حرام معاملہ ہے ، کیونکہ اس میں دھوکہ اور بازی لگانا ہے ، اور اس کے علاوہ بہت سی تفصیلات ہیں جن کی یہاں وضاحت نہیں ہوسکتی ۔لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ : میرے بھائی کوئی ایسا کام تلاش کریں جو شبہات سے پاک صاف ہو ۔کیونکہ اکثر علماء فرماتے ہیں کہ : آپکا تجارتی انشورنس کمپنیوں میں کام کرنا چاہے نام کوئی بھی رکھ لے حقیقت میں دھوکہ کے معاملات میں شامل ہونا ہے ۔ یہ میری نصیحت ہے آپکے لیے۔

باوجود اسکے کہ آپ کو انشورنس کمپنیوں میں کام کرنے پر جواز کا قول بھی ملے گا (یہ علماء کی ایک جماعت کا قول بھی ہے)، چاہے یہ کام بطور تعاون کے ہو یا خالص تجارتی ہو۔کیونکہ حقیقت میں یہ علماء کی ایک جماعت کے ہاں جائز ہے ۔ لیکن میں آپکو اے سی بات کی طرف متوجہ کرتاہوں جس سے آپکا دل مطمئن  ہوجائے گااو ر آپ شبہات سے بچ جائینگے۔ خاص طور پر کھانے پینے اور کمائی کے معاملہ میں۔یہ ایسی باتیں ہیں جن میں انسان کو حرام کاموں سے بچناچاہیے کیونکہ ان چیزوں کا انسان کی دعاء قبول ہونے اور اس کی زندگی اور اولاد کی حالت ٹھیک ہونے میں بڑا دخل ہے

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف