الثلاثاء 26 ذو الحجة 1442 هـ
آخر تحديث منذ 6 ساعة 7 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الثلاثاء 26 ذو الحجة 1442 هـ آخر تحديث منذ 6 ساعة 7 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

بیع تام ہو جائے تو اس کے بعد عاقدین کو کسی چیز کا حق نہیں رہتا

مشاركة هذه الفقرة

بیع تام ہو جائے تو اس کے بعد عاقدین کو کسی چیز کا حق نہیں رہتا

تاريخ النشر : 17 رمضان 1438 هـ - الموافق 12 يونيو 2017 م | المشاهدات : 693
- Aa +

میں نے ایک گاڑی خریدی اور گاڑی کے مالک کے ساتھ ایک معین قیمت پر اتفاق کرلیا، بعد میں ہمارا کچھ اختلاف ہوا تو گاڑی کے مالک نے کہا کہ میرے والد صاحب میرا اور آپ کا فیصلہ کریں گے ، میں اس پر راضی ہوا اس لئے کہ اس کے والد صاحب امامِ مسجد ہیں ، فیصلہ کرتے وقت انہوں نے کہا کہ یہ رقم فلاں کی بنتی ہے، میں نے طوالتِ عرصہ کے باوجود اتفاق کیا کچھ عرصہ بعد وہ میرے پاس آکر کہنے لگا کہ میں زیادتی چاہتا ہوں کیا میرے لئے اس کو زیادہ رقم دینا جائز ہے جبکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟

إذا تم البيع فلا حقَّ للمتعاقدين بعده في شيء

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

آپ کے سوال کے بارے میں ہمیں جو سمجھ آیا ہے اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ آپ کے لئے اس کو اپنے مال میں سے کچھ بھی واجب نہیں ہے، اس لئے کہ جس مال پر عقد تام ہو ا تھا اس کو اس نے پورا پورا وصول کیا تھا اور اس پر راضی بھی ہوا تھا اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اللہ نے خریدو فروخت کو حلال قرار دیا ہے﴾ {البقرہ: ۲۷۵

 اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿اے ایمان والو! آپس میں اپنے اموال باطل طریقہ سے نہ کھایا کرو الا یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے بطورتجارت ہو﴾ {النساء: ۲۹} اور یہاں آپ کے مسئلہ میں رضامندی حاصل ہوچکی ہے۔

 اور سنن میں آپکا ارشاد گرامی منقول ہے: ’’خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے‘‘ [سنن ابنِ ماجہ: ۲۱۸۵] اور یہاں آپ دونوں میں رضامندی حاصل ہوگئی ہے۔

لہذا اس کے لئے بعد میں رجوع کرکے زیادتی کرنا اس کا حق نہیں بنتا، جیسا کہ اگر کوئی شخص مثال کے طور پر کسی کو کوئی چیز بیچے اور اس سے عقد کیا اور عقد تام ہونے کے بعد وہ رجوع کرکے مطالبہ کرے تو اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے، اس لئے کہ اگر اس طرح ہوتا رہے تو لوگوں کے معاملات اور لین دین خراب ہوجائیں ، اس لئے اس شخص کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے لیکن اگر آپ بطورِ اکرام اور اس کی دلجوئی کے اس کو دینا چاہیں تو یہ آپ کو اختیار ہے لیکن یہ واجب نہیں ہے

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف