الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 1 ساعة 21 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
الاثنين 15 جمادى آخر 1443 هـ آخر تحديث منذ 1 ساعة 21 دقيقة

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأعضاء الكرام ! اكتمل اليوم نصاب استقبال الفتاوى.

وغدا إن شاء الله تعالى في تمام السادسة صباحا يتم استقبال الفتاوى الجديدة.

ويمكنكم البحث في قسم الفتوى عما تريد الجواب عنه أو الاتصال المباشر

على الشيخ أ.د خالد المصلح على هذا الرقم 00966505147004

من الساعة العاشرة صباحا إلى الواحدة ظهرا 

بارك الله فيكم

إدارة موقع أ.د خالد المصلح

×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

آج کل جو کمپنیاں میدان میں ہیں کیا وہ سُود کا لین دین کرتی ہیں؟

مشاركة هذه الفقرة

آج کل جو کمپنیاں میدان میں ہیں کیا وہ سُود کا لین دین کرتی ہیں؟

تاريخ النشر : 5 شوال 1438 هـ - الموافق 30 يونيو 2017 م | المشاهدات : 489

کیا یہ بات سچ ہے کہ آج کل جو کمپنیاں میدان میں ہیں وہ سُود سے خالی نہیں ہوتیں ؟ اور یہ کہ مضاربت کمپنیوں کے شئیرز کے ساتھ برابر ہے جو ہم سنتے ہیں کہ وہ خالص ہیں یا اس کے علاوہ جو بھی ہے تو وہ مال کے عوض مال بیچنے کے حکم میں ہے ؟ اور اگر معاملہ ایسا نہ ہو یعنی اگر یہ مال کے عوض مال بیچنا نہ ہو تو ان کمپنیوں کے شئیرز کے بارے میں مضاربت کا کیا حکم ہے جنہیں بعض اہل علم جاری کرتے ہیں جیسا کہ شیخ شبیلی حفظہ اللہ اور شیخ عصیمی اس بات پر مستحکم ہیں کہ یہ خالص ہیں ، اور پھر ثانی یا ثالث کے ربع کے ختم ہونے کے بعد خالص کمپنیوں کے فہرست سے خارج از امکان ہو جاتا ہے، اس لئے کہ انہوں نے یا تو امانت رکھوائی ہے یا سود کے ذریعہ قرض لیا ہے ، اور میں نے بھی اس میں حصہ لیا ہے ، اور میرے بھی کچھ شئیرز ہیں اب اگر میں نے ان کو کمپنی کے خارج از امکان قرار دینے کے بعد خالص فہرست سے بیچ دیتا ہوں تو میں اپنا وہ مال گنواتا ہوں جس سے میں نے اس وقت وہ شئیرز خریدے تھے جب وہ خالص تھے ؟ ازراہ کرم اس بارے میں ہمیں فتوی دیں

هل الشركات التي على الساحة الآن تتعامل بالربا؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

جہاں تک میرا خیال ہے تو ایسی کوئی کمپنی نہیں پائی جاتی جو محرمات سے خالی ہو چاہے وہ سود ہو یا کوئی اور حرام معاملہ اس لئے کہ اب یہ بالکل نادر روزگار ہوگیا ہے، باقی رہی بات شئیرز کی مال کے عوض مال پر بیچنے کی تو یہ درست نہیں ہے ، جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ کمپنیوں کی اس طرح تقسیم کرنا غیر محقق ہے، بایں طور کہ اس نقاء کا معیار جس کو انہوں نے اپنایا ہے وہ دوسرے حرمت کے اسباب سے غفلت کے ساتھ محدود مدت کے لئے سود پر قرض نہیں ہے، اسی لئے یہ تقسیم حقیقت میں دھوکہ کو شامل ہے

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف