السبت 12 صفر 1443 هـ
آخر تحديث منذ 3 ساعة 9 دقيقة
×
تغيير اللغة
القائمة
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو Hausa
السبت 12 صفر 1443 هـ آخر تحديث منذ 3 ساعة 9 دقيقة

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح
×

لقد تم إرسال السؤال بنجاح. يمكنك مراجعة البريد الوارد خلال 24 ساعة او البريد المزعج؛ رقم الفتوى

×

عفواً يمكنك فقط إرسال طلب فتوى واحد في اليوم.

ایک سُودی بینک جس کی کوئی اسلامی برانچ ہو

مشاركة هذه الفقرة

ایک سُودی بینک جس کی کوئی اسلامی برانچ ہو

تاريخ النشر : 12 شوال 1438 هـ - الموافق 07 يوليو 2017 م | المشاهدات : 478

اس مسئلہ میں ہم آپ سے حکم کی وضاحت کے طلبگار ہیں، اور یہ مسئلہ کسی اسلامی بینک میں مال رکھوانے کے متعلق ہے جس میں مال کی سرمایہ کاری پر عقد کی صراحت کردی جاتی ہے جو احکامِ شریعت کے عین مطابق ہوتا ہے، اور پرافٹ غیر متعین ہوتا ہے ، اور یہ پرافٹ متغیر ہوتا ہے ، لیکن اس میں ایک کنفیوژن ہے اور وہ یہ کہ اصل میں یہ بینک سُودی بینکوں کی ایک برانچ ہے بایں طور کہ جب اس بینک والوں نے دیکھا کہ اسلامی بینک روز بہ روز پھیل رہے ہیں تو انہوں نے بھی سوچا کہ اس کی کوئی ایسی برانچ کھولی جائے جس میں اسلامی طریقہ سے لین دین ہو، لہٰذا اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس اسلامی بینک کے برانچ میں پیسے رکھوانے کے حکم میں اثر پذیر ہے؟

البنك الربوي الذي له فرع إسلامي

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

معاملات اور لین دین کے حلال ہونے میں صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ اس کا وصف بیان کرتے ہوئے اتنا کہا جائے کہ یہ احکامِ شریعت کے مطابق ہے، بلکہ اس کی حقیقت اور وصف کو صراحت سے بیان کیا جائے تاکہ مکمل طور پر علم ہو کہ کیا یہ شرعی محرمات سے سالم ہے یا اس میں کوئی ممنوعہ چیز بھی پائی جا رہی ہے ، باقی جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس کا جواب اہل علم کے راجح قول کے مطابق یہ ہے کہ ایسے بینک میں اثر پذیر نہیں ہوتا جس کے دوسرے حرام بینکوں سے بھی تعلق ہو ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

13/11/1424هـ

مواد ذات صلة

مواد تم زيارتها

التعليقات (0)

×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف