فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / نمازیوں کو نشانہ بنانا مجرموں کا کام ہے

نمازیوں کو نشانہ بنانا مجرموں کا کام ہے

تاریخ شائع کریں : 2016-08-22 | مناظر : 1841
- Aa +

پہلا خطبہ

الحمد للہ...

اما بعد۔۔۔

 

یقینا فتنے عقل کو ختم کر دیتے ہیں اور آنکھوں کو اندھا کردیتے ہیں اور ان سے قدم ہل کر رہ جاتے ہیں اور یہ اعمال کو ضائع کردیتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے (ترجمہ) ’’ اور جس کے لئے اس کابرا عمل مزےّن کردیا جائے اور وہ اس کو اچھا سمجھے پس اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہدایت دیتا ہے لہٰذا(اے نبی) ان کافروں پر افسوس سے ایسا نہ ہو کہ تمہاری جان جاتی رہے یقینا جو کچھ یہ کرتے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہے ‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں :’’ مردوں کی عقل کو ختم کرنے میں شراب فتنوں کا بدل نہیں ہے یعنی فتنوں کی طرح نہیں ہے‘‘۔

امام احمد ؒ اور امام ابن ماجہ ؒ ابو موسیؓ والی حدیث کو روایت فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابو موسی ؓ نے فرمایا: ’’ اللہ کے نبی علیہ السلام نے ہمیں فرمایا کہ قیا مت سے پہلے ھرج واقع ہوگا‘‘۔

ابو موسی ؓ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺھرج کیاہے ؟

فرمایا: ’’قتل‘‘۔ اس پر بعض مسلمانوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی بے شک ہم ایک سال میں اتنے اتنے مشرکین کو قتل کرتے ہیں ، تو اللہ کے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا ’’وہ قتل مشرکین کا نہیں ہوگا بلکہ تم میں سے بعض بعض کو قتل کرے گا ، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو قتل کردے گا اور اپنے چچا کے بیٹے کو اور اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو قتل کرے گا‘‘۔

تو بعض لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس وقت ہماری عقل ہمارے ساتھ ہوگی ؟ ارشاد فرمایا ’’نہیں ‘‘ اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقل کھینچ لی جائے گی اور پیچھے گنے چنے وہ لوگ رہ جائیں گے جن کی عقل نہیں ہوگی ، اللہ کے رسولﷺکے اس قول(لا عقل لھم) کا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقلیں نہیں ہوں گی ۔

اس قول سے اللہ کے حبیب ﷺکی مراد یہ تھی کہ ان کی عقلیں سیدھے راستے اور ہدایت پر نہیں ہوں گی کیونکہ شیطان ان کے دلوں پر غالب آجائے گا اور گمراہی ان کے دلوں میں ڈیر ے ڈال لے گی ۔

اے ایمان والو ! شرک کے بعد زمین میں سب سے بڑا فساد اس نفس کو قتل کرنا ہے جس اللہ نے حرام کیا ہے (یعنی ناحق قتل) اور اسی لئے اللہ کے رسولﷺنے اس بارے میں شدت سے نہی فرمائی ہے اور اس معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ ان خطرناک اور جنگ کے مواقعوں پر بھی اللہ کے رسول ﷺنے نہایت احتیاط کا حکم فر مایا ۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں (ترجمہ) ’’ اے ایمان والو!جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو تحقیق کرلو اور جوشخص تمہیں السلام علیکم کہے تو اس سے یہ نہ کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو‘‘

تو اللہ رب العزت نے محض سلام کرنے پر احتیاط اور رکنے کا حکم دیا ہے کہ اس کا خون بہایا جائے یہاں تک کہ یہ حکم لازم ہوا جنگ اور سخت پریشانی و قتال کے وقت بھی۔

بلکہ یہ حکم تو بہت دور ہے کیونکہ اگر کوئی شخص عین قتال کے وقت میں ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھ لے تو اس کا خون محفوظ ومامون ہو گا، کیونکہ صحیح مسلم میں وارد ہے کہ حضرت مقدادابن الاسود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں کہ میرا مقابلہ کسی کافر سے ہو اور پھر وہ مجھ سے قتال کرے اور پھر وہ تلوار کے وار سے میرا ہاتھ کاٹ لے اور پھر وہ ایک درخت کی پناہ لے لے اور پھر کہے کہ میں اللہ کے لئے اسلام قبول کرتا ہوں تو کیا میں اسے قتل کروں؟ یہ سن کر اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا:’’ تم اسے قتل مت کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تواس کو قتل کرنے سے پہلے جو مقام تیرا تھا وہ اس کا ہو جائے گا اور تم اس کی طرح ہو جاؤ گے جیسا وہ اس کلمے کے پڑھنے سے پہلے تھا ‘‘۔ (یعنی تمہارا خوان بھی ویسا جائز ہوجائے گا جس طرح کلمہ پڑھنے سے پہلے اس کا خون جائز تھا ) ۔

امام بخاری ؒ انس بن مالک ؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺجب ہمیں ساتھ کسی قوم پر لشکر کشی فرماتے تواس وقت تک حملہ نہ فرماتے جب تک صبح نہ فرماتے ‘‘ اور اگر اذان سن لیتے تو ان سے ہاتھ روک لیتے اور اگر اذان نہ سنتے تو طلوعِ فجر کے ہوتے ہی ان پر حملہ فرمادیتے ، پس اللہ کے حبیب ﷺنے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ’’اللہ اکبر اللہ اکبر ‘‘ تو اللہ کے حبیبﷺنے فرمایا :’’یہ فطرت پر ہے ‘‘۔ پھر اس شخص نے کہا:’’أشھد أن لا الہ الا اللہ ، أشھد أن لا الہ الا اللہ‘‘  تو اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:’’ تم آگ سے بچ گئے ‘‘۔

کاش کہ اللہ کے رسول ﷺاس شخص کو دیکھتے جو خود کش جیکٹ پہن کر کسی مسجد میں یا اس جگہ جہاں لوگ اللہ کے لئے جمع ہوں اور جو اللہ کے منادی کی پکار کا جواب دیتے ہوئے رکوع و سجود کی حالت میں ہو ں اور یہ شخص خو د وک ان کے درمیان میں اڑادے (خودکش دھماکہ کردے)۔

حدیثِ ابو ہریرہؓ جس کو اصحابِ سنن نے روایت فرمایا ہے جس میں حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا :’’مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘‘۔ تو مندرجہ بالا روایت سے فساد پھیلانے والوں کا تعلق کس قدراور کہاں تک ہے ، اس روایت جس کو شیخین ؒ نے روایت فرمایاہے اور اس روایت کے راوی حضرت ابو ہریر ہؓ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺکو کہا کہ ’’اللہ سے ڈرو‘‘ اس وقت جب کہ اللہ کے رسول ﷺکچھ مال تقسیم فرمارہے تھے ، تو رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :’’ تمہارا ناس ہو کیا زمین پر بسنے والوں میں اس بات کا مجھے زیادہ حق نہیں کہ میں اللہ سے ڈروں‘‘؟ (یعنی زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ میں ڈرنے والا ہوں) پھر وہ شخص چلا گیا تو حضر ت خالد بن ولید ؓ عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول! کیا میں ا س کی گردن نہ اڑادوں ؟ یہ سن کر اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا:’’ نہیں ، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہ نمازی ہو‘‘۔

اے ایمان والو! اس زمانے میں سب سے زیادہ خطرناک اور اسلام کو نقصان پہنچانے والے فتنوں میں فساد پھیلانے والے کفار اور جھٹلانے والے لوگوں کا فتنہ ہے ، جو لاعلمی اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کے تحت مسلمانوں کے خون کو حلال اور مسلمانوں کو اس بات کے لائق گردانتے ہیں کہ انہیں قتل کیا جائے ۔

اور یہ لوگ ہی اللہ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ شریر اور برے ہیں جن کے بارے میں رسولِ اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ :’’ میرے بعد میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکلیں گے جس طرح تیر کمان سے نکلتاہے اور پھر دین میں واپس نہیں آئیں گے یہی لوگ تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے ‘‘۔ اور ایک روایت جو عبیداللہ بن رافع کے واسطہ سے ہے جس کو وہ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے نقل فرماتے ہیں جس میں وارد ہوا ہے کہ :’’یہ لوگ اللہ کے نزدیک اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض ہیں ‘‘۔ ان لوگوں کو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ برے اور شریر اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس کے اولیا ء کو تکلیف دیتے ہیں اور اس سب کے باوجود وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ ایمان کے بارے میں جاننے والے اورقرآن کو تھامنے والے ہیں پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، اور انہیں لوگوں کی بدولت یہ امت قرنِ اول سے لے کر آج تک آزمائش اور فتنوں میں ہے ۔

اے ایمان والو! ان لوگوں کی گمراہی اور شیطان کا ان کے ساتھ کھیلنا اور ان کے برے اعمال کو مزےّن کر نے اور ان کے برے اعتقاد ات میں سے یہ کہ انہوں نے نمازیوں کو قتل کرنے کو سب سے بڑا ورد اورسب سے بڑا جہاد قرار دیا ، اور یہ ان کی کوئی نئی پیدا شدہ گمراہی نہیں بلکہ وہ اپنے اسلاف اور اسلام دشمن لوگوں کی گمراہی کو دہرا رہے ہیں ۔

جیسا کہ مشرکینِ مکہ اللہ کے رسول ﷺکے حلفاء (جو بنو خزاعہ سے تھے ) کو قتل کردیا اس حال میں کہ وہ نماز ادا کررہے تھے اور ان میں سے ایک نے پکارا ’’ اے اللہ میں محمد ﷺکو قسم دیتا ہوں جو ہمارا اور ہمارے آباؤاجداد کے حلیف ہیں ‘‘ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے:

                   انہوں نے تہجد کے وقت ہم پر حملہ کیا       اور رکوع اور سجدہ کی حالت میں ہمیں قتل کردیا

یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اپنے رسول کریم ﷺکو فتح مبین (فتح مکہ) عطا فرمائی، اسی طرح پھر ابولؤلؤ فیروز مجوسی امیر المؤمنین سیدنا عمر ابن الخطاب ؓ کو اس حال میں شہید کرتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺکے محراب میں لوگوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے ہوتے ہیں ،اور اسی طرح ان لوگوں کے اسلاف میں سے ایک خارجی بدبخت عبدالرحمان بن ملجم حضر ت علی کرّ م اللہ وجہہ کے لئے تاک لگا کر بیٹھتا ہے اور انہیں شہیدکرتا ہے جبکہ وہ نمازِ فجر کے لئے تشریف لا رہے ہیں ، اور اسی طرح ایک اور بدبخت خارجی عمروبن بکر جو عمر و بن عاص ؓ کو قتل کرنے کی تاک میں ہوتا ہے مگروہ کسی مرض کے سبب اس دن نماز کے لئے آ نہ سکے ۔

اے ایمان والو! نمازیوں سے دشمنی کرنے کی جسارت کبھی بھی ایسا شخص نہیں کرسکتا جس کے دل میں ایمان و اسلام ہو ، اسی لئے ایسے افعال وہ لوگ کرتے ہیں جو کافر ، مشرک ، منافق اور حق سے پھرنے والے ہوتے ہیں اور وہ گمراہ لوگ جو علم کے نور سے منور اور روشن نہیں ہوتے اور کسی پختہ رکن کی انہوں نے پناہ نہ لی ہو۔

اے اللہ تو ہمیں گمراہی اور بے راہ روی سے بچا ! (آمین)

 

دوسرا خطبہ

الحمد للہ رب العالمین

اما بعد۔۔۔

 

اللہ کے بندو! اسلام کے دشمنوں نے مسلمانوں کے ممالک کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش اور جہد نہیں چھوڑی ہے ، اور مسلمان ممالک کو حاصل کرنے کے لئے وہ کوئی وسیلہ یا راستہ نہیں چھوڑتے ۔ اور تمہارے یہ ممالک اسلام کی قیام گاہیں ، اس کے شعائر کی تعظیم اور اس کے احکامات کو ہر ممکن کوشش اور طاقت کے ساتھ نافذ کرنے والے ہیں ۔ اسی لئے تم بھی کوئی کسر نہ چھوڑو اس محنت میں جس میں مسلمانوں اور اسلام کی عزت ہے ، اور اس وجہ سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محبوب بنایا ہے اور اس سب کے باوجود امن و استقرار ، دولت اور معشیت عطا فرمائی تو یہ حسد کرنے والوں کی نظروں میں گندگی اور بغض کرنے والوں کے حلق میں پھنسے والے ایک لقمہ کی طرح ہے ۔

لہٰذا للہ کے دشمنوں کی اس ملک کے ساتھ دشمنی باقی اسلامی ممالک سے زیادہ ہے ، پس اس کو حاصل کرنے کے لئے فساد پھیلانے والے ہر وسیلہ اور راستہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ اللہ رب العزت فساد پھیلانے والوں کے عمل کی اصلاح نہیں فرماتے اور اللہ تعالیٰ عنقریب ا ن لوگوں کو ناکام کردے گا جو زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور ٹھیک نہیں ہوتے ۔

اور انہیں دشمنوں میں سے وہ جھٹلانے والے ہیں جو مملکتِ سعودیہ عربیہ اور حرمین کو حاصل کرنے کے لئے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں ۔اور اس طرح کی خبیث اور بری کوششیں کرنے والوں میں سے منجملہ یہ فساد اور شر پھیلانے والی تنظیم داعش ہے جو اس ممالک میں کے امن کو ہلانے اور ختم کرنے کے لئے دھماکے کرتے ہیں اور ان کا آخری برا گناہ یا حد وہ ہے جو انہوں نے ’’موضع عسیر‘‘ میں واقع مسجد قوّات طواری میں کل بروز جمعرات ۲۱ شوال کو اس وقت دھماکہ کروایا جبکہ لوگ نماز ظہر میں میں کھڑے تھے۔

پس ہمارے لئے تو اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین طرف داری کرنے والا ہے ، جو شہید ہوئے اللہ ان کو شہدا ء میں قبول فرمائے اور ان پر رحم فرمائے اور اللہ مصیبت زدوں کو جلد شفاء عطا فرمائے اور ان کے اقرباء اور ہمیں صبر عطا فرمائے کیونکہ ہم سب اس مصیبت میں مبتلا ہیں ۔

اے ایمان والو! اس سے بڑی قبیح اور بری بات کیا ہوگی کہ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں دھماکے کا جرم کیا جائے اور اس میں نمازیوں کو قتل کیا جائے مگر اس سب کے پیچھے وہ گمراہ فکر ہے جس نے ان شیطانی اعمال کو مزین کیا اور اس کے لئے راستہ بنایا اور اس کو جھوٹ ، بہتان اور دھوکے کا سہارا لیتے ہوئے جہاد کا لبادہ پہنا دیا ، مگر اللہ کی قسم یہ محض فساد پھیلانا اور خیانت ہے ، اور حق سے پھرنا اور گمراہی ہے جس کا سہارا ان مبارک ملکوں سے کا ہر دشمن لیتاہے اور بغض وعناد رکھنے والے اس سے خوش ہوئے ہیں ۔

اور اب ہم داعش جو کہ شر وفساد کی تنظیم ہے اور اس کے پیچھے جتنے بھی دشمن ہیں ہم ان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تم لوگ ناکام و نامراد اور خسارے میں رہے۔کیونکہ آج ہم تمہاری گمراہی اور تمہارے حق سے مڑے ہوئے طریقے پر بہت زیادہ بصیرت رکھتے ہیں کیونکہ تمہاری علامتیں اور شعار منہدم ہوچکے ہیں اور ان دونوں جہانو ں کے لئے تمہاری گمراہی واضح ہوگئی ہے ، کیونکہ تم حق سے پھرنے اور گمراہی کی نیابت کررہے ہو جس خلافت کی بنیاد دھوکہ اور خیانت کا طریقہ ہے ۔

اور آج ہم اللہ کے شکر اور احسان سے بہت زیادہ ہیں مجمع کے لحاظ سے اور بہت زیادہ قوی ہیں طاقت میں اور تمہارے مکر و فریب کے مقابلہ میں پختہ عزم والے ہیں۔

پس ہم انہیں کہتے ہیں کہ تمہارا ہمارے امن پسند لوگوں کو نشانہ بنانا ایسا ہے جیسے ہم سب نشانہ بنانا اور عنقریب تم ہمیں اپنی دشمنی اور فساد کے مقابلے میں ایک صف کی طرح پاؤ گے۔

اے ایمان والو! آج ہم اپنے دین ، اپنی قیادت، اپنے امن ، ہمارے کمانے میں ، ہمارے اجتماعات غرض ہر اس نعمت جس کا تعلق دین سے ہے یا دنیا سے سے اور ہم اس نعمت سے لطف اٹھا رہے ہیں مگر آج ہم اپنی ان تما م نعمتوں میں ہدف بن چکے ہیں ، پس سرکشوں، ظالموں ، فساد پھیلانے والوں اور بغض رکھنے والوں کے لئے ہم سب ایک ہاتھ کی مانند بن جائیں ۔

اے ایمان والو! ہم سب ضرور بن جائیں ، حفاظت کرنے والے ، امین اور دفاع کرنے والے اور اپنے امن والے لوگوں کی مدد کریں ہر اس شخص کو ہرانے اور ناکام کرنے میں جو ہمارے ملکوں میں شر اور فساد پھیلانے کی کوشش کرے ۔

اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمارے عقیدے ہماری قیادت ، ہماری وحدیت اور ہمارے امن کی حفاظت فرمائے ۔ (آمین)

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں