فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

حج و عمرہ / گیارہ تاریخ کو حج سے لوٹنے کا حکم

گیارہ تاریخ کو حج سے لوٹنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2016-08-22 | مناظر : 1650
FA
- Aa +

کیا گیارہ تاریخ کو حج سے لوٹنا جائز ہے ، اگر یہ ماہِ ذی القعدہ کے پورے ہونے اور اور اوقاتِ سفر کے اختلاف کی وجہ سے ہو؟ اس لئے کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر مجھے گیارہ تاریخ کو واپس لوٹنا پڑ رہا ہے۔

حكم انصراف المضطر من منى قبل يوم الثاني عشر

اما بعد۔

حاجی پر واجب ہے کہ وہ اپنے حج کے مناسک کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ان مناسک کو بعینہ ویساپورا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پورا کرنے کا حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:  ﴿و أتموا الحج والعمرۃ للہ﴾ (ترجمہ) ’’ اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو‘‘۔ اور اتمام حج سے مراد حج کے مناسک و واجبات اور سنن کو پورا کرنا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اےّامِ معدودات میں اپنی یاد کاحکم دیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:  ﴿واذکروااللہ فی أےّام معدودات﴾ (ترجمہ)  ’’اور اےّامِ معدودات میں اللہ کو یاد کرو‘‘  اور اےّامِ معدودات سے مرادتمام مفسرین کے نزدیک اےّامِ تشریق ہے،جیسا کہ اہلِ علم میں سے کسی کا قول ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اےّامِ تشریق میں سے دو دنوں میں جلدی کرنے کی اجازت دی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:  ﴿فمن تعجّل فی یومین فلا اثم علیہ﴾ (ترجمہ)  ’’جس نے دو دنوں میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ ، اور یہ جلدی کرنا اہلِ علم کے اتفاق سے ذی الحجہ کے بارہ تاریخ کے دن کو لوٹنے کے ساتھ ہوتی ہے ، لہٰذا منی میں گیارہ اور بارہ تاریخ کی رات گزارناواجب ہے اور اسی طرح ان دو دنوں میں رمی جمار بھی واجب ہے، یہی وہ ذکراللہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے آیت میں حکم دیا ہے۔ لہٰذا حاجی کے لئے اس سے پہلے منی سے لوٹنا جائز نہیں ہے، یہی وہ اصل بات ہے جن پر دلائل وارد ہوئے ہیں۔

رہی اس شخص کی بات جوکسی مجبوری کے تحت گیارہ تاریخ کو لوٹے تو اس کے لوٹنے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے جو فی الجملہ دو اقوال پر مرتب ہوتا ہے۔

پہلا قول:   جو شخص کسی مجبوری کے تحت گیارہ تاریخ کو لوٹے تو اس پر ایک دم واجب ہوتا ہے یا پھر ہر اس واجب کے بدلے دم ہوگا جو اس نے وقت سے پہلے اپنے جانے کی وجہ سے چھوڑا ہے۔(یہ مأذون فیہ ہے)اس قول کی سند حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ’’ جو اپنے حج میں سے کوئی رکن بھول جائے یاچھوڑجائے تو وہ (اس کے بدلے میں) خون بہائے ( دم دے)‘‘۔

یا پھر وہ جن واجبات کے پورا کرنے سے عاجز ہوگیا ہے ان سب کی طرف سے دمِ اِحصار کرے ، اس لئے کہ وہ محصر کے حکم میں ہے اور یہ قول حنابلہ کے مذہب پرجاری ہے کہ اگر کوئی شخص تمام واجباتِ حج کے پورا کرنے سے عاجز آجائے تو اس پر دمِ احصار واجب ہوتا ہے اور یہی ہمارے شیخ ابن بازؒ سے بھی منقول ہے اوریہی ہمارے شیخ عثیمینؒکے بعض فتاویٰ جات سے بھی سمجھ آتا ہے۔

دوسراقول:  یہ ہے کہ جو شخص گیارہ تاریخ کو کسی مجبوری کی وجہ سے واپس لوٹے تو اس پر مطلق دم واجب نہیں ہوتا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:  ﴿فاتقواللہ مااستطعتم﴾ (ترجمہ) ’’تم اللہ سے جتنا ڈر سکتے ہو ڈرو‘‘  اور صحیحین میں حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے کہ آنحضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:’’جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو تم اس کو جتنا پورا کرسکتے ہو پورا کرو‘‘ لہٰذا جو شخص گیارہ تاریخ کو منی سے مجبوری کے تحت لوٹے تو اس پر اس عذر کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوتا ، اوریہی حنفیہ مالکیہ اور شافعیہ کا مذہب بھی ہے کہ عذر کی وجہ سے کسی واجب کو چھوڑنے دم واجب نہیں ہوتا، اور یہی فتویٰ ہمارے شیخ ابن بازؒ اور شیخ عثیمین ؒ کا بھی اس شخص کے بارے میں ہے جو مزدلفہ نہیں آیا یہا ں کہ تک اس سے وقوف کا وقت نکل گیا لہٰذا ان دونوں نے اس عذر کی وجہ سے مزدلفہ میں رات گزارنے کے حکم کو ساقط کردیا ہے اور اس پر فدیہ واجب نہیں کیا، او را بننجیم نے بھی عذر کی وجہ سے مسئلۂ ترکِ رمی میں صراحت فرمائی ہے کہ اگر عورت بھیڑ کی وجہ سے رمی چھوڑدے تو امام ابوحنیفہ ؒ کے قول کے مطابق اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا ، جیسا کہ اگر عورت وقوفِ مزدلفہ چھوڑدے تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا ، اب یہاں ایک اشکال وارد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر میں تو آیا ہے کہ’ ’ جو اپنے حج میں سے کوئی رکن بھول جائے یاچھوڑجائے تو وہ (اس کے بدلے میں) خون بہائے ( دم دے)‘‘۔ لہٰذا نسیاناََ ترک پر دم مرتب کیا جبکہ نسیان عذر ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ کہ ایوب سختیانی جو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر کے رواۃ میں سے ایک ہیں فرماتے ہیں: ’’ مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے ــ’’ترک‘‘ کہا یا’’نسی‘‘کہا امام مالک ؒ نے ایوب ؒ سے اس نقل کیساتھ اشارہ کیا کہ ان کا کہنا ’ ’أو‘‘  شک کے لئے ہے نہ کہ تقسیم کے لئے۔

جیسا کہ لغت میں نسیان کا اطلاق ترک پر بھی ہوتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ : ﴿الیوم ننساکم کما نسیتم لقاء یومکم ھذا﴾ (ترجمہ)  ’’ آج ہم تمہیں اس طرح بھلادیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا‘‘ اور اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حدیث میں ترکِ واجب کی وجہ سے بغیر کسی دم کے لازم ہونے میں رخصت ثابت ہوئی ہے جیسا کہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے رعاۃ و سقاۃ کو منی سے باہر رات گزارنے میں رخصت دی اور ان پر دم لازم نہیں کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول میں اس بات کا احتمال ہو سکتا ہے کہ جو شخص گیارہ تاریخ کو لوٹنے پرمجبور ہوجائے تو اگر اس کے لئے تو اس پربارہ تاریخ کی رمی میں وکیل بنانا واجب ہوجاتا ہے اگر یہ ممکن ہو،اور اگر اس کے لئے توکیل ممکن نہیں ہے تو اس سے رمی ساقط ہوجائیگی اور عذر کی وجہ سے اس پر کچھ واجب نہیں ہوگا، اور عاجز کی طرف سے توکیل کی دلیل حدیث میں آئی ہے جیسا کہ مسند اور سنن میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ’’ ہم نے آپصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  کے ساتھ حج کیااور ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے تو ہم نے بچوں کی طرف سے تلبیہ بھی پڑھا اور ان کی طرف سے رمی بھی کی‘‘ اور ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف نہیں ہے کہ اگر کوئی عذر کی وجہ سے رمی نہیں کرسکتا تو اس کی طرف سے رمی کی جائے گی اگرچہ وہ کبیر السن ہو۔ اور یہ بات بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ انا بت (اپنا نائب بنانا) حالتِ مجبوری میں حج کے اصل میں مشروع ہے تو اس کے اجزاء میں بھی مشروع ہے۔

اور بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ جو مجبوری کے تحت گیارہ تاریخ کو لوٹے تو اس پر واجب ہے کہ وہ گیارہویں تاریخ کے ساتھ بارہویں تاریخ کی ر می مقدم کرلے اور اس کی اصل وہ حدیث ہے جس میں آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نے رعاۃ و سقاۃ کو رخصت دی تھی کہ وہ یوم نحر کورمی کریں پھر اگلے دن دو دنوں سے رمی کرلیں پھر آخری دن جانے کی رمی کریں، اور یہ اس کاقول ہے جس کے نظر میں کمال ہے، لیکن یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ گیارہ تاریخ کودو دنون کی رمی جمع کرنے میں رخصت اس شخص کے لئے ہے جو تیرہ تاریخ کو رمی کرے۔

أقرب الی الصواب اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ جو شخص کسی مجبوری کے تحت گیارہ تاریخ کو لوٹے تو عذر کی وجہ کی سے منی میں بارہویں تاریخ کی رات گزارنا اس سے ساقط ہوجائے گا پھر اگر اس کے لئے بارہویں تاریخ کے دن کو توکیلِ رمی ممکن ہو تو اس پر توکیل لازم ہوجائے گی وگرنہ عذر کی وجہ سے اس سے ساقط ہو جائے گی اور واپس لوٹنے سے پہلے اس پر طوافِ وداع واجب ہو جائے گاجیسا کہ آنحضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  کا ارشاد گرامی ہے کہ’’ تم میں سے کوئی بھی ہرگز نہ لوٹے مگریہ کہ اس کا آخری کا م بیت اللہ کی زیارت ہو‘‘۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  کا’’أحد‘‘ فرمانا نکرہ ہے جو نہی کے تحت داخل ہے لہٰذا یہ حج سے ہر لوٹنے والے کو شامل ہے اور حج کے باقی ماندہ ارکان میں جن سے وہ عاجز تھا اور اس نے ان میں جسے اپنا وکیل بنایا تھا تو یہ اس کے لئے طوافِ وداع سے مانع نہیں ہیں، جیسا کوئی تیرہویں تاریخ کو حج تمتع کی ہدی ذبح کرنے میں کسی کو اپنا و،کیل بنائے اور خود وہ بارہویں تاریخ کو لوٹے، لہٰذا وہ اپنے لوٹنے سے پہلے طوافِ وداع کرے گا ، واللہ أعلم۔

أ.د خالد بن عبدالله المصلح

عضو الإفتاء بالقصيم

وأستاذ الفقه بجامعة القصيم

3 / 12 / 1436 هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں