فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

مضامین / دور حاضر میں روزہ ٹوٹنے کے اسباب

دور حاضر میں روزہ ٹوٹنے کے اسباب

تاریخ شائع کریں : 2016-09-04 | مناظر : 1783
- Aa +

تمام تعریفیں اللہ کے لیۓ ہیں جو دونوں جہانوں کا رب ہيں اور میں درود وسلام پیش کرتا ہوں اس کے بیجھے ہوۓ رسول حضرت محمد اور ان کے صحابہ اور ال پر اور جو ان کی اتباع کرتے ہیں قیامت کے دن تک۔

اما بعد۔۔۔

بے شک روزہ ارکانِ اسلام میں سے بہت بڑا رکن اور علامات ِ اسلام میں سے بہت بڑی علامت ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے اہلِ اسلام پر فرض کیا ہے ، جیسا کہ کتاب وسنت میں سے بہت سے دلائل اس پر دال ہیں ، اور اس پر علمائے امت کا اجماع بھی ہے ۔

لہٰذا ہر مسلمان مرد وعورت پر واجب ہے کہ وہ روزے کے احکامات میں سے اتنا سیکھے جس سے وہ اس رکن کو اس درجے پر قائم کرے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعمال میں سے صرف اسی عمل کو قبول فرماتے ہیں جو نیک ہو ، اور عمل تب نیک ہوتا ہے جب وہ  خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو، اور آپ کے عمل وسنت کے موافق ہو، اور اس کی تحقیق کے وسائل میں سے ایک وسیلہ اہلِ علم کی کتابوں کا مراجعہ و مطالعہ ہے کہ انہوں نے روزے کے نازل شدہ اور جدید احکامات اور اس کے مسائل کے بارے میں پہلے بھی لکھا اوربعد میں بھی ،لہٰذا جو بھی ان کا مطالعہ کرے گا تو وہ روزے کے بہت سارے احکامات سے آشنا ہو جائے گا ،اور اگر اس کے باوجود کسی کو کوئی اشکال ہو جائے یا اسے مزید وضاحت کی ضرورت ہو تو پھر وہ اہلِ علم سے رابطہ کرے ، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے : ﴿فاسئلوا أھل الذکر ان کنتم لا تعلمون﴾  (ترجمہ)  ’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو ‘‘۔

روزہ دو ارکان پر مشتمل ہے ؛  (پہلا رکن)  نیت  (دوسرا رکن)  روزہ توڑنے والی چیزوں سے رکنا، لہٰذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان چیزوں سے باخبر ہو جن سے روزہ ٹوٹتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر قرآن میں کیا ہے جن سے روزہ ٹوٹتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿فالآن باشروھن وابتغواما کتب اللہ لکم وکلوا واشربو ا حتی یتبےّن لکم الخیط الأبیض من الخیط الأسودمن الفجر ثم أتموا الصیام الی اللیل﴾ (ترجمہ)  ’’چنانچہ اب تم ان سے صحبت کرلیا کرو ، اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے لکھ رکھا ہے اسے طلب کرو ، اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفیددھار ی سیاہ دھاری سے ممتاز نہ ہو کر تم پر واضح نہ ہو جائے ، اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو‘‘۔ لہٰذروزے توڑنے والی چیزوں کے اصول وہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے نہارِ رمضان میں رکنے سے منع فرمایا ہے ، اس لئے مذکورہ آیت میں ان میں سے تین چیزیں ذکر فرمائی : (جماع اور کھانا پینا)اور حدیث مبارکہ میں حیض و نفاس اور قصداََ قے کے ذریعے پیٹ کا سب کچھ نکالنا بھی روزہ کو توڑنے والی چیزوں میں سے شمار کیا گیا ہے، اور اس پر اہلِ علم کا اجماع بھی ہے ، لہٰذ ا یہ پانچ چیزیں جو ہم انے ابھی ذکر کی ہیں روزے کو توڑنے والی ہیں ۔

باقی ان کے علاوہ جو چیزیں روزہ توڑنے والی ہیں تو ان میں علماء کا اختلاف ہے ، اور اس اختلاف کا سبب یا دلیل کے ساتھ علم کی طرف راجع ہے یا پھر اس کے اختلاف کے ثابت ہونے میں ، یا اس کے فہم اور جدید و قدیم احوال کے اعتبار سے اس کی علت کی تحقیق میں ہے ۔

اور اسباب فقہ مدوّن کتابوں اور حدیثِ مبارکہ کی شروحات میں کئی چیزوں پر موقوف ہیں، کہ روزہ توڑنے میں علماء کا ان میں اختلاف ہے ، جیسا کہ پچھنا لگوانا ، ناک میں دوا ڈالنا ، آنکھ میں سرمہ ڈالنا وغیرہ، اور ان جدید ٹیکنالوجی انقلاب جس نے انسان کے طرز ِزندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ان کے ساتھ بہت ساری ایسی جدید چیزیں مل گئی ہیں جو روزہ توڑنے والی ہیں ، عصر ِ حاضر کے علماء کا ان میں اختلاف ہے کہ وہ روزہ توڑتی ہیں یا نہیں ، اور ان میں اکثر چیزیں طب کے ساتھ کشف و تشخیص اور علاج و معالجے کے اعتبار سے متعلق ہیں ، جیسا کہ سینے کے علاج میں پچکاری کا استعمال، اور تشخیص و عملیات میں طبّی ٹیلسکوپ کا استعمال، اور ہر قسم کے انجکشن ، اور آنکھ ناک اور کان میں ڈراپس کا استعمال، انجکشن کے ذریعے خون لینا اور دینا ، اور گردے واش کرنا، اور نشہ آوار دوا سے کسی عضو کو نشہ اور مدہوش کرنا وغیرہ وغیرہ۔

بہر کیف یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ان مسائل میں سے ہر مسئلے میں کئی طرح کے اقوال ، دلائل ، مباحث اور ترجیحات ہیں ، اور فی الغالب وہ فیصلے کئی فقہی مجالس ، علمی اداروں ، اور شرعی کمیٹیوں سے صادرہوئے ہیں جو اس اعتبار سے ان کا حکم واضح کرتے ہیں کہ کیا وہ چیزیں روزہ توڑنے والی ہیں یا نہیں؟

اور آج کل روزہ توڑنے والی چیزوں میں علماء کے اختلا ف میں غور و فکر کے وقت رعایت ہونی چاہئے، اس لئے کسی چیز پر بھی جب حکم لاگو ہوتا ہے کہ وہ روزہ توڑتی ہے تو دلیل کے ساتھ ہوتا ہے ، اور یہی اصل اصول ہے جو علماء کے درمیان متفق علیہ ہے ، اور یہ اس لئے کہ اللہ اور اس کے رسولنے وہ چیزیں ذکر کردی ہیں جن سے روزہ ٹوٹتا ہے لہٰذا کتاب و سنت میں جو آیا ہے اس پر مزید زیادتی نہیں کی جائے گی ،اب جس مسلمان کے پاس ان جدید مسائل کے احکام تک پہنچنے کی قدرت ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس میں اپنی تمام تر کوشش صرف کرے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اس میں اجتہاد کرے اور جو غیر قادر ہو جیسا کہ غیر ماہرین میں سے عوام الناس کا حال ہے تو پھر اس پر واجب ہے کہ اہلِ ذکر سے رابطہ کرے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿فاسئلوا أھل الذکر ان کنتم لا تعلمون﴾  (ترجمہ)  ’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو ‘‘۔اور اگر اس کے بعد بھی اس پر کسی حکم میں کئی اقوال کا اختلاف ہوجائے تو اس سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں تواگر اس کے لئے ان اقوال میں سے راجح قول کا جاننا ممکن ہے تو یہ تو مطلوب ہے ، وگرنہ پھر ان مختلف اقوال میں سے جوسب سے زیادہ ارجح ہے وہی لے لے ، اور اگر وہ سب علم کے اعتبار سے برابرہیں تو پھر اہلِ علم میں سے اکثروں کا قول لے لے، اس لئے کہ فی الغالب یہی درستگی کے زیادہ قریب ہے ، واللہ أعلم۔

مفطرات الصیام المعاصرۃ.

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں