فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / خاو ند کا اپنی بیوی کے مال کا ناحق استعمال اور پھر اسے طلا ق دینا

خاو ند کا اپنی بیوی کے مال کا ناحق استعمال اور پھر اسے طلا ق دینا

تاریخ شائع کریں : 2016-09-06 | مناظر : 1667
- Aa +

جنابِ من میری شادی کو چار ماہ ہوگئے ہیں، (مسئلہ یہ ہے کہ) میرے شوہر نے مجھ سے شادی کرتے وقت مجھے بتایاتھاکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے لیکن اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ اگر اس کی پہلی بیوی (جس نے خطیر رقم کے ساتھ اس کی مدد کی ہے)طلاق دینے کا مطالبہ کرے تو پھر بھی وہ مجھے طلاق نہیں دے گا ، اور اب مجھے اچانک پتہ چلا ہے کہ اس نے مجھے غائبانہ طور پرطلاق دے دی ہے ، لہٰذا اب اس کا کیا حکم ہے؟ استغلال الزوج لمال زوجتہ ثم تطلیقہ لھا

حقیقت تو یہ ہے کہ پریشانی قسم کھانے میں نہیں ہے ،بلکہ اصل پریشانی تو بعض مردوں کا عورتوں پربے جا مسلط ہونا اور ناحق ان کے اموال کا ہڑپ لینا ہے، اور یہ ایسی پریشانی ہے جس کے سامنے اہلِ علم، اہلِ دعوت اور اہلِ فضل سب کو کھڑا ہونا چاہئے، بلکہ میں تو سارے معاشرے کو یہ دعوت دیتا ہوں کہ آؤ  عورت کو انصاف دلائیں، آج مردوں کی طرف سے وہ ظلم کی چکی میں پس رہی ہے ( مرد حضرات خوامخواہ ان پر اپنا رعب دھاب جھاڑتے ہیں اور نا حق ان کے اموال پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں  چاہے وہ مال ِمیراث ہو، یا مالِ مرتب، یا اس کے علاہ )  ہم روزانہ مردوں کی طرف سے عورت پر ظلم و ستم کے ایسے دلخراش واقعات سنتے ہیں جن کو سن کر دل غم سے صد پارہ ہو جاتے ہیں ۔

میں ایسے مرد حضرات کو آقائے دوجہاںکیاایک وعیدانہ فرمان سے متنبہ کرتا ہوں کہ آپنے بطور وعید کے فرمایا کہــــــ’’جس شخص نے ایسی جھوٹی قسم کھائی جس کے ذریعے وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیانا چاہے توقیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غصہ ہونگے‘‘۔ (متفق علیہ) اور آپ کا اک اور فرمان بھی ہے کہ ’’کسی آدمی کا مال اس کے طیبِ نفس کے بغیر جائز نہیں‘‘۔ (رواہ احمد والدارقطنی والبیھقی و حسنہ) اب اس شخص کے لئے کیسے حلال ہوگا جو عورتوں سے بڑے بڑے مال لیتا ہے اور پھر ان کا انکار کرتا ہے؟ بلکہ تم ایسے مرد بھی پاؤ گے کہ پہلے عورت سے بہت سارا مال لے لیتا ہے پھر اسی مال پر اس سے شادی کر لیتا ہے اور یہ عورت کے ساتھ بہت بڑا فریب اور حد درجہ ستم ہے۔

رہی بات قسم کی تو میں اس میں کچھ کہنا نہیں چاہتا، کیونکہ قسم ایسی چیز ہے جو قسم کھانے والے کے ساتھ خاص ہے، لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا قسم طلاق سے مانع ہے؟ جواب: نہیں، قسم طلاق سے مانع نہیں ہے بلکہ طلاق واقع ہوگئی ہے۔

اور آپکی غیر موجودگی میں طلاق واقع ہوگئی ہے، کیونکہ طلاق حضور و غیاب دونوں حالتوں میں واقع ہو جاتی ہے، لیکن بہرکیف جس پریشانی کے دور سے آپ گزر رہی ہیں اس میں میں آپکو تسلی دیتا ہوں اور آپکو اس خدائے غالب وبرتر کی طرف متوجہ کرتا ہوں ،  جس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں، اور آپ بھی اللہ تعالیٰ کو دوہائی دیں کہ وہ آپکو اس آدمی سے انصاف دلا دے۔

آپکا بھائی

أ۔د؍خالد المصلح

۵؍۳؍۱۴۳۳ھ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں