فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / آدمی کا اپنی بیوی کو پاک دامن بنانا اور بری باتوں سے محفوظ رکھنا

آدمی کا اپنی بیوی کو پاک دامن بنانا اور بری باتوں سے محفوظ رکھنا

تاریخ شائع کریں : 2016-09-06 | مناظر : 2007
- Aa +

آدمی کا اپنی بیوی کو پاک دامن بنانا اور بری باتوں سے محفوظ رکھنا

وجوب اعفاف الرجل زوجتہ

امام بخاری ؒ(۳۲۳۷) اور امام مسلم ؒ(۱۴۳۶) نے ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ سرکار دو عالم نے ارشاد فرمایا ’’ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے ، اور خاوند غصے کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں‘‘، کیونکہ حقوق کو منع کرنا ان کاموں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو واجب کرتے ہیں،  اور اس سخت وعید میں وہ عورت شامل ہے جب خاوند اسے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے،  ہاں عورت کو اگر کوئی عذر وغیرہ ہو جیسا کہ اسے ماہواری ہو یا جماع سے اسے تکلیف ہو، یا اس قسم کے اور کوئی عذر ہوں تو پھر وہ اپنے عذر کی وجہ سے اس وعید میں شامل نہیں ہے۔

اور اہلِ علم نے عورت کے جن عذروں کو ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے عورت اس وعید سے نکل جاتی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر خاوند ظالم ہو اور عورت بطورِ سزا اور اس کو احساس دلانے کے لئے خاوند سے رک جائے تومذکورہ حدیث میں وہ عورت شامل نہیں ہے،  جیسا کہ ابن حجر ؒ نے فتح(۲۹۴/۹) میں فرمایا ہے کہ’’ اگر مرد عورت پر ظلم کی ابتداء کرے تو پھر نہیں‘‘ یعنی پھر عورت کی طرف حدیث شریف میں آئی ہوئی ملامت متوجہ نہیں ہوتی،  اور یہی اسی عدل کا تقاضا ہے جس سے زمین و آسمان کا وجود قائم و دائم ہے، فرمانِ الٰہی ہے’’ اگر تم معاقبہ کرو تو اسی طرح جس طرح تمہارا معاقبہ کیا گیا ہے‘‘ (النحل : ۱۲۶) اور ایک دوسری جگہ قرآن میں ارشاد فرمایا ’’برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہوتی ہے‘‘ (الشوری: ۴۰)

اور یہ بھی ممکن ہے کہ عورت کا عدمِ مؤاخذہ مرد کے ظلم کی وجہ سے ہو ،  جیساکہ امام بخاری ؒ (۵۲۰۴) نے حدیث ِ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ میں روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اورپھر دن کے آخر میں اس سے جماع کرے‘‘ یہ حدیث دو باتوں کی قباحت (ظلم اور طلبِ جماع ) پر دلالت کرتی ہے، اس لئے کہ ظلم اور اذیت یہ دونوں نفرت اور بغض کو واجب کرتے ہیں، اور جماع و استمتاع یہ دونوں نفس کے میلان کے ساتھ ا ور صحبت میں رغبت کی طرف داعی ہے۔

اور جب عورت کو حاجت ہو اور وہ خاوند کو بلائے اور قدرت کے باوجود خاو ند اس کے پاس نہ جائے تو یہ جائز نہیں ہے،  اس لئے کہ یہ حکمِ الہٰی کے برخلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے ساتھ حسنِ معاشرت کاحکم دیا ہے جیسا کہ ارشادِباری تعالیٰ ہے ’’اورتم( عورتوں کے ساتھ) اچھی طرح معاشرت کرو‘‘  (النساء :۱۹)  اور ایک دوسری جگہ ارشادِ خداوندی ہے’’ اور انکے لئے تم پرویسے ہی حقوق ہیں جیسے تمہارے ان پر (بھلائی کے ساتھ) ‘‘ (البقرہ:۲۲۸)،پس یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عورتوں کے مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، اور حدیث زوجین میں سے کسی ایک کی تخصیص پر دلالت نہیں کرتی ،  اور اس پر آیتِ ایلاء بھی دلالت کرتی ہے،  (ایلاء: یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ وطی نہ کرنے پر قسم کھائے) ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھاتے ہیں، (اس کی مدت) چار ماہ انتظار ہے، اگر وہ واپس لوٹیں تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے‘‘ (البقرہ: ۲۲۶)۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کو ذکرِ مغفرت کے ساتھ ختم فرمایاہے، (جو اس بات کا تقاضا کررہا ہے کہ پہلے گناہ ہوگیا ہے (اور وہ وطی سے منع ہونے میں عورت کو ضرر پہنچانا ہے) اس لئے ہم کہتے ہیں کہ قسم کے بغیر مضرت اسی حکم کو واجب کرتی ہے جوحکم قسم کو واجب کرتا ہے، سوائے عورتوں کے احکام کے) (احکا م القرآن لابن العربی ۲۵۰/۱) اور جب بیوی کو حاجت ہو اور خاوند اس کے پاس جانے سے رک جائے تو ایسا کرنے میں اس کو فتنوں میں مبتلا کرنے کا بہت بڑا سبب ہے، اور آج کل کے اس پرفتن دور میں ہر طرف فتنوں کے اسباب وافر مقدار میں موجود ہیں،( اللہ ہی ان سے ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین!)  اور رہی بات حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہونی والی وعید کی تو وہ محلِ نظر ہے کیونکہ یہ حدیث خاص کر ان عورتوں کے بارے میں ہے جو خاو ندوں کے پاس جانے سے رکتی ہیں، اور اس جیسی نصوص میں قیاس منع ہے ،واللہ أعلم۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں