فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / زواجِ صوری کی صورتیں اور اس کا حکم

زواجِ صوری کی صورتیں اور اس کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2016-09-06 | مناظر : 1625
EN
- Aa +

زواجِ صوری کا کیا حکم ہے؟

’الزواج الصوری‘‘ صورہ و حکمہ

زواجِ صوری کی حقیقت یہ ہے کہ طرفین بغیر کسی قصد کے اس کی حقیقت کی وجہ سے یا تو عقداََ نکاح کا اظہار کرے ، یا قولاََ اور یا حالاََ۔  اور اس کی تین صورتیں ہیں:

پہلی صورت :   یہ ہے کہ مرد وعورت یہ دعوی کریں کہ وہ دونوں میاں بیوی ہیں،  اور اس صورت میں جھوٹ اور سچ دونوں کا احتمال ہے ، اور اس کے ذریعے دونوں حالتوں میں نکاح نا جائز ہے۔

دوسری صورت:  یہ ہے کہ دو شخص آپس میں میاں بیوی کی نقل اتارے تو اہلِ علم کے نزدیک یہ نکاح عبث ہے،  اور صاف ظاہر ہے کہ اس صور ت کی تخریج عبث نکاح پر درست نہیں ہے،اس لئے کہ یہ تو قول کو وجود میں لاتا ہے ، اس سے اس کامعنی اور حقیقت مراد نہیں ہوتا،اور  فنکار تواپنے علاوہ جس غیر کا قول نقل کر رہا ہوتا ہے اسی کا لفظ و معنی مراد لیتا ہے، اور چاہے وہ غیر کوئی متعین ہو یا کوئی تصوراتی، دونوں برابر ہیں، لہٰذا محض فنکاری اور نقل اتارنے سے نہ تو عقدِ نکاح منعقد ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے طلاق واقع ہوتی ہے۔

تیسری صورت:  عاقدین کا بغیر قصدِ نکاح کے ایجا ب و قبول یا کوئی اور ایسالفظ کہنا جس سے عقدِ نکاح منعقد ہو جا تا ہے،  تو وہ محض کسی مصلحت کو حاصل کرنے کے لئے یا کسی مضرت کو دفع کرنے کیلئے ہوتا ہے، اور اس صورت کو عصرِحاضر میں علماء کی ایک جماعت نے غیر سنجیدہ کے نکاح کے ساتھ ملحق کیا ہے،  اور اس میں انکے دو قول ہیں:

پہلا قول:  یہ نکاح صحیح ہے اور اس پر اس کے آثار مرتب ہوتے ہیں،  جس طرح حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ میں جمہورِ علماء کے نزدیک غیر سنجیدہ کے نکاح میں ہوتے ہیں۔

دوسرا قول:  یہ نکاح صحیح نہیں ہے اور اس پر اس کے آثار مرتب نہیں ہوتے، اور یہ قول مالکیہ کے نزدیک غیر سنجیدہ کے نکاح میں ہے۔

اوراس الحاق کی ایک وجہ یہ ہے کہ مذاق وہ ہوتا ہے جس سے وہ مراد ہو جو اس کے لئے نہیں وضع کیا گیا،لیکن اس میں یہ اشکال ہے کہ مذاق عبث اور لغو ہوتا ہے،اور اس سے نہ تو کوئی منفعت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مضرت دفع ہوتی ہے،اس صورت کے برخلاف، کہ اس کے ذریعے بہت سے ضرر دفع ہوتے ہیں اور بہت سے نفع حاصل ہوتے ہیں،تو اس میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مذاق ہے۔

اور ان جیسے معاملات میں سب سے اقرب قول یہ ہے کہ انسان ایجاب و قبول وغیرہ جیسے الفاظ بولنے میں جب مضطر ہو جائے جن سے نکاح منعقد ہوتا ہے یا نکاح فسخ ہوتا ہے، تو ان پر نکاح یا طلاق کے احکام مرتب نہیں ہوتے۔

ممکن ہے کہ اس کا استدلا ل اس سے لیا گیا ہو جو بخاری شریف(۲۲۱۷) اور مسلم شریف  (۲۳۷۱) میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپنےارشادفرمایاکہ ’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بی بی سارہ کے ساتھ ہجرت کی ،اور انہیں ایک ایسی بستی میں لے کر گئے جہاں ایک ظالم و جابر بادشاہ تھا، اس بادشاہ سے کسی نے کہا کہ ابراہیم اپنے ساتھ ایک حسین و جمیل عورت کو لے کر آیا ہے ،  (یہ سن کر) بادشاہ نے اس کی طر ف اپنا ایک بندہ بھیجا جس نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا : ’’ابراہیم کو ن ہے یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے؟‘‘ ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں فر مایا’’یہ میری بہن ہے‘‘، پھر ابراہیم علیہ السلا م نے بی بی سارہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ان کو بتایا کہ تم میری بہن ہو تو میری اس بات کو جھوٹی نہ مان، کیونکہ زمین پر میرے اور تمہارے علاوہ بھی مومن ہے‘‘ (الحدیث)  اس میں موضعِ استدلال ابراہیم علیہ السلام کا اپنی بیوی کو بہن کہنا ہے، اور اس قسم کاقول اگراسے کے ظاہر پر جاری کیا جائے تو یہ ظہار یا تحریم میں سے شمار کیا جائے گا،لیکن ابراہیم علیہ السلام کا وہ کہنا ایک ضرورت کے تحت تھا لہٰذا اس پر اس کے احکام مرتب نہیں ہونگے۔

امام بخاری نے اپنے صحیح کتاب الاکراہ میں باب باندھا ہے جو اس معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے پس فرمایا(باب : ناگواری کے ساتھ جب خاوند اپنی بیوی کو بہن کہے تو اس پر کچھ نہیں) واللہ أعلم

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں