×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / حج و عمرہ / میں پہلی دفع حج کر رہا ہوں اور اپنی والدہ کے لئے عمرے کی نیت بھی ساتھ کر رہا ہوں اب کیا حکم ہے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-06 06:25 PM | مناظر:2468
- Aa +

میں عنقریب حجِ تمتع کی نیّت سے حج پرجانے کا ارادہ رکھتا ہوں اورمیں اپنی والدہ کی طرف سے عمرہ کرنا چاہتا ہوں کیا میرے لئے ایسا کرنا جائز ہے جبکہ میں پہلی بار حج کوجارہا ہوں اور اپنی طرف سے پہلے میں عمرہ بھی ادا کرچکا ہوں

أحج لأول مرة وأنوي العمرة لأمي فما الحكم؟

جواب

بعدالحمد والصلوۃ:

حجِ تمتع اس حج کو کہا جاتا ہے جس میں  حج کے مہینوں میں عمرہ کے لئے احرام باندھا جائے پھر عمرہ کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد ترویہ کے دِن حج کا احرام باندھا جائے چنانچہ آپ کا اپنی والدہ کی طرف سے عمرہ ادا کرنا حجِ تمتّع ہی کے اعمال میں سے ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں