×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / حج و عمرہ / موالاۃ یعنی لگا تار سعی کرنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-10 06:05 PM | مناظر:2593
- Aa +

صفا مروہ کے درمیان سعی میں موالاۃ یعنی لگا تار سعی کرنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

حكم الموالاة في السعي

جواب

 امابعد۔۔۔

سعی کے اشواط میں موالاۃ یعنی لگاتار سعی کرنے کے بارے میں اہلِ علم کے دو قول ہیں:-

پہلا قول:  احناف، شوافع اور حنابلہ کے ایک قول کے مطابق سعی کے دوران موالاۃ واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے ۔

دوسرا قول:  مالکیہ اور حنابلہ کے مذہب کے مطابق سعی کے دوران موالاۃ واجب ہے ۔

جو عدمِ وجوب کے قائل ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ وجوب پر کوئی دلیل ثابت نہیں ہے ۔۔۔اور جو وجوب کے قائل ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ سعی کو طواف پر قیاس کرتے ہیں۔۔۔

میری رائے یہ ہے کہ عذر کے علاوہ موالاۃ واجب ہے ، کیونکہ اگر سعی میں فصل آ جائے تو اس سے ربط ٹو ٹ جاتا ہے اور وعبادت اجزاء میں بٹ کر غیر مرتبط ہو کر رہ جاتی ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

خالد المصلح

25/ 07 /1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں