فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نماز / نمازِعشاء اور نمازِظہر کو اوّل وقت سے مؤخر کرنے کا حکم

نمازِعشاء اور نمازِظہر کو اوّل وقت سے مؤخر کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2016-09-11 | مناظر : 2160
- Aa +

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد۔۔۔ میں نمازِ عشاء اور نمازِ ظہر کو اوّل وقت سے مؤخرکرنے کے مسئلے میں افادیت (ثواب ) کی امید رکھتا ہوں، تو کیا یہ جائز ہے یانہیں؟ (اللہ تعالیٰ آ پ میں برکت دے اور آ پ کو جزائے خیر عطا فرمائے).

حكم تأخير صلاتي العشاء والظهر عن أول الوقت

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حامدا و مصلیا

امابعد۔۔۔

نمازِعشاء اور نمازِ ظہر کے وقتوں کو مؤخر کرنے کی گنجائش اور اس کے متعلق وضاحت طلب کرنے کے بارے میں آ پ کی اطلا ع کے لئے عرض کرتا ہوں کہ فرض نمازوں کی صحت کے بارے میں اہلِ علم کا کوئی اختلاف نہیں ہے ، جب تک پوری طرح ان نمازوں کی ادائیگی فی الوقت ہو، چاہے وہ ادائیگی ابتدائے وقت میں ہو، یا چاہے وسطِ وقت میں ہو یا پھر انتہائے وقت میں ،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿انّ الصلوٰۃ کانت علی المؤمنین کتاباََموقوتاََ﴾  (ترجمہ)  ’’بے شک نماز مؤمنوں پر وقتِ متعےّنہ میں فرض کردی گئی ہے‘‘ لیکن افضل و أولیٰ یہی ہے کہ فرض نمازوں کو اوّل وقت میں ہی ادا کیا جائے ، جیسا کہ صحیحین میں ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ اللہ کے ہاں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:’’نماز کو اپنے وقت میں ادا کرنا‘‘۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازوں کو ان کے اول وقت میں ہی ادا کیا جائے ، اور یہی اصول تمام نمازوں کو شامل ہے ، لیکن نمازِ عشاء کے لئے افضل وقت میں اہلِ علم کا اختلا ف ہے ، تو احناف حنابلہ وغیرھم میں سے جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ نماز کو رات کے تیسرے پہر تک مؤخر کرنا مستحب ہے جیسا کہ صحیحین اور ان کے علاوہ کتابوں میں صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت سے منقول ہے انہی میں سے مسلم شریف میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ :’’آپﷺ نے ایک را ت اتنی تاخیر کی کہ رات کاعام حصہ گزر گیا، اور مسجد والے بھی سو گئے ، پھر باہر نکل کر نماز پڑھائی ، اورپھر ارشاد فرمایا: ’’کہ یہی اس کا وقت ہوتا اگرمجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا ‘‘  اسی طرح صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ :’’آپ ﷺ نے اتنی تاخیر کی کہ لوگ سو گئے پھر آپ ﷺ نے باہر نکل کر ارشاد فرمایا:’’اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ اس طرح نماز پڑھیں ‘‘۔تو اسی قول کے مطابق نمازِعشاء کا افضل وقت یہ ہے کہ اگر لوگوں کو اس طرح مشقت نہ ہو تو نمازِعشا ء کو رات کے تین پہروں میں سے پہلے پہر کے گزرجانے کے بعد ادا کی جائے ۔

اور رہی بات نمازِ ظہر کو نمازِ عصر سے تھوڑی دیر پہلے کے وقت تک مؤخر کرنے کی تو جمہور علماء کے ہاں افضل یہ ہے کہ نمازِ ظہر کو اوّل وقت میں  اد ا کی جائے البتہ اگر گرمی کی شدت ہو تو پھر اس کو ٹھنڈا کرنا(یعنی عصر سے تھوڑی دیر پہلے تک مؤخرکرنا) مستحب ہے ،  جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابوذر ؓ سے منقول ہے کہ :’’رسول اللہ ﷺ کے مؤذن نے اذان دی تو آپﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا :’’أبردأبرد‘‘ یعنی ذرا انتظار کر ذرا انتظار کر، پھر ارشاد فرمایا :’’گرمی کی شدت جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے ، لہٰذا جب گرمی بڑھ جائے تو تم نمازوں کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو‘‘اسی طرح حضرت ابوسعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے ۔

اور جس چیز کی طرف توجہ ضرور ی ہے تووہ یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات کو مقرر کرنا وزارتِ امورِ اسلامیہ ، اوقاف اور دعوت و ارشاد سے متعلقہ ہیں ، کیونکہ یہی وہ شعبے ہیں جو ان چیزوں کا سنت کی رعایت رکھتے ہوئے اہتمام کرتے ہیں ، اور جب تک وہ فی الوقت ہو تو تقدیماََ و تأخیراََ اس کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی جاتی ہے ، اور صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے جو روایت منقول ہے وہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے آپﷺ کی نماز کے وقت میں عشاء کہا: ’’اور عشاء کبھی کبھی یعنی جب آپﷺ  صحابہ کو دیکھتے کہ جمع ہوگئے ہیں تو آپ ﷺ نماز جلدی پڑھا لیتے اورجب آپ ﷺ دیکھتے کہ انہوں نے تاخیر کرلی تو پھرآپ ﷺ نماز کو مؤخر کرلیتے‘‘ اور لوگوں کی مصلحت کے لئے اور ان سے مشقت کو دور کرنے کے لئے یہی اصل ہے ۔

اللہ تعالیٰ سب کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائے جس میں سب کی خیر ہو آمین 

(قصیم)رکن شعبہ افتاء

أ.د خالد بن عبدالله المصلح

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں