×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / سلس البول کے مریض کے لئے کپڑا یا لفافہ وغیرہ تبدیل کنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-16 10:44 AM | مناظر:2580
- Aa +

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته جو شخص سلس البول کا مریض ہو کیا اسے ہر وضو کے لئے اپنا کپڑا یا لفافہ وغیرہ تبدیل کرنا لازم ہوگا؟

حكم تبديل اللفافة لمن به سلس عند الوضوء

جواب

حامدا و مصلیا

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته،

 أما بعد

اس مسئلہ میں علماء کے دو قول ہیں پہلا قول:  ہر وضو کے وقت میں اس شخص پر کپڑا وغیرہ تبدیل کرنا لازم نہیں ، یہ حنابلہ کا مذہب ہے اور حنفیہ اور مالکیہ کا ایک قولِ ظاہر ہے۔

دوسرا قول:  ہروقت کپڑا وغیرہ تبدیل کرنا واجب ہے ، یہ شوافع کامذہب ہے اور راجح قول پہلا قول ہے کیونکہ جس شخص کو کوئی دائمی مرض (سلس البول وغیرہ ) لاحق ہو تو ا س کے لئے ہر وضو کے وقت لفافہ یا کپڑا وغیرہ تبدیل کرنا لازم نہیں کیونکہ نبی علیہ السلام نے مستحاضہ کو اس کا حکم نہیں دیا کیونکہ اس صور ت میں مشقت بھی ہے اور جرح بھی ہے ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ نے اسی قول کو أقوی قرار دیا ہے کیونکہ کپڑوں کا ہر وقت دھونا اور خشک کرنایا کوئی اور پاک کپڑا تبدیل کرنا اس عمل میں بہت زیادہ مشقت ہے برخلاف وضو کے ۔ کیونکہ جب نبی کریمنے مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے وضوکا حکم دیا تو خون کے دھونے یا شرمگاہ کے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپکا بھائی

أ.د خالد المصلح

16/12/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں