فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / خاوند کو پرکھنے (اختیار کرنے) کا بنیادی اصول

خاوند کو پرکھنے (اختیار کرنے) کا بنیادی اصول

تاریخ شائع کریں : 2016-09-18 | مناظر : 1098
- Aa +

میرے پاس ایک نوجوان آیا جس میں ظاہری طورپر تو مجھے خیر کی علامات نظر آئیں لیکن اس کی ذاتی حالات کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے ، لہٰذا میرا آ پ سے سوال یہ ہے کہ وہ کون سی بنیادی کسوٹی ہے جس پر ایک اچھے خاوند کو پرکھا جا سکتا ہے ؟اور مجھے کس طرح پتہ چلے گا کہ وہ ہمارے ساتھ کوئی فریب نہیں کرے گا جیسا ہمارے ساتھ پہلے بھی ہوا ہے ؟ (میں آپ اور تما م امت ِ مسلمہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے توفیق کا طلبگار ہوں)

ما هي الأسس التي أختار عليها الزوج المناسب؟

حامدا و مصلیا

امابعد۔

ایک اچھے خاوند کو جس معیار اور کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے وہ وہی ہے جس کو اللہ کے اللہ کے رسول نے قبول کرنے لئے مقرر فرمایاہے اور وہ معیار اور کسوٹی دین میں استقامت اور اچھے اخلاق ہیں، جیسا کہ حدیثِ ابی ہریرہؓ میں ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا:  ’’اگر تمہارے پاس کوئی ایسا شخص رشتہ بھیجے جس کے دین و اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا رشتہ کروادو اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں بہت بڑا فساد برپا ہوجائے گا‘‘،  لہٰذا واجب ہے کہ اسی کا اعتبار کیاجائے جس کو اللہ کے رسول نے ذکرفرمایاکہ اس کے دین کو دیکھا جائے کیونکہ اس کادین پر رہنا واجبات کی محافظت اور منہیات سے سے اجتناب کی علامت ہے اور اس کے اخلاق کو دیکھا جائے کیونکہ یہ اس کے خیر کو پھیلانے اور لوگوں سے شر کو دورکرنے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤکرنے کی علامت ہے۔ اور میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ آپ ا س کے بارے میں پوچھ تاچھ اور اس کے احوال اور تزکیۂ عامّہ پر عدمِ اکتفاء یا جس کے ساتھ اس کی معاشرت لمبی نہ ہو اس کے بارے میں جانچ پڑتال بھی کرلیں ۔

آپکا بھائی

خالد المصلح

29 /01/ 1424 هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں