فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / مردوں کے لئے دف بجانے کا کیا حکم ہے

مردوں کے لئے دف بجانے کا کیا حکم ہے

تاریخ شائع کریں : 2016-09-18 | مناظر : 3032
EN
- Aa +

مردوں کے لئے دف بجانے کا کیا حکم ہے ؟

حكم ضرب الدف للرجال

حامدا و مصلیا

امابعد۔

اہلِ علم کامردوں کے دف بجانے میں اختلاف ہے جس میں دو اقوال ہیں

[1] پہلا قول:  شادی وغیرہ میں مردوں کے لئے دف بجانا جائز ہے اور یہی امام مالکؒ

کے بعض نصوص سے بھی ثابت ہے ۔[3] اورامام احمد ؒ  [2] ، امام شافعیؒ

دوسرا قول:  شادی وغیرہ میں مردوں کے لئے دف بجانا مکروہ ہے اور یہ امام ابو حنیفہ ؒ

کا بھی ایک قول ہے ۔[5]  کا مذہب ہے، اور مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ [4]

اور جمھور کی دلیل وہ احادیث ہیں جن میں نکاح کے موقع پر دف بجانے کے استحباب کے بارے بغیر کسی تخصیص کے آیاہے جیسا کہ حدیثِ عائشہ ؓ میں ہے کہ : ’’نکاح کا اعلان کرو اور اس میں دف بجاؤ‘‘ اور محمد بن حاطب کی حدیث:  ’’حلال اور حرام کے درمیان جو فاصل ہے وہ دف بجانا ہے ‘‘ وغیرھما۔ اور جن لوگوں نے اس کو عورتوں کے ساتھ خاص کیا ہے تو انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں آیا ہے کہ آپکے زمانے میں دف بجایا گیا تو آپنے ارشاد فرمایا کہ یہ صرف عورتوں کے لئے ہے ، ابن الحجر نے فتح الباری (۲۲۶/۹) میں فرمایا ہے’’وہ قوی احادیث جن میں عورتوں کے لئے اس کی اجازت ہے تو عورتوں کے ساتھ مرد لاحق نہیں ہوں گے کیونکہ اس میں عورتوں کے ساتھ عام تشبہ ہے ۔

لیکن جہاں تک میری رائے ہے تووہ یہ ہے کہ عورتوں کے لئے یہ وارد ہونا مردوں کے حق میں مانع نہیں ہے خاص کر اس کے بجانے کے جواز میں مردوں کے لئے اس کا سننا جائز ہے ، جیسا کہ ترمذی نے (۳۶۰۹) نے حدیثِ بریدہؓ سے روایت کیا ہے کہ ’’آپاپنے بعض غزوات میں نکلے تو واپسی میں ایک کالی باندی آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول!  میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحیح سالم لوٹایا تو میں آ پ کے سامنے دف بجاکر گاؤں گی ۔ آپنے اس سے ارشادفرمایا:  ’’اگر تم نے یہی منت مانی ہے تو ٹھیک ہے دف بجا کر اپنی منت پوری کرلواور اگر منت نہیں مانی تو پھر نہیں ‘‘،تو وہ باندی دف بجانے لگی ۔ (قال ابو عیسی ھذا حدیث حسن صحیح غریب) اور رہی بات یہ کہ اس میں عورتوں کے ساتھ تشبہ ہے اس سے بچنا چاہئے تو یہ عر ف میں مکان اور زمان کے اعتبارسے انتہائی مختلف فیہ ہے۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپکا بھائی

خالد المصلح

28/03/1425هـ

----------

[1] ينظر: حاشية دسوقي2/338، مواهب الجليل 4/7.   

[2] ينظر: أسنى المطالب 4/345، الفتاوى الكبرى للهيثمي 4/356.   

[3]  ينظر: الإنصاف 8/342، مطالب أولي النهى 5/251.   

[4]  ينظر: البحر الرائق 7/88، رد المحتار 5/483.

[5] ينظر: مواهب الجليل 4/7، أسنى المطالب 4/345، كشاف القناع 5/184.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں